
جکارتہ (انڈونیشیا)، 13 ستمبر (ہ س)۔
انڈونیشیا کے بنجرماسین سرچ اینڈ ریسکیو (تلاش و بچاؤ) ادارے نے جاوا سمندر میں لاپتا ہونے والے جہاز ورجینو ٹرانسپورٹ 8کے 103 مسافروں کو اتوار کے روز بحفاظت نکال لیا۔ تاہم ان میں سے ایک مسافر کی موت ہوگئی۔ امدادی ٹیمیں اب بھی 140 لاپتا مسافروں کی تلاش میں مصروف ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ جہاز کا اتوار کی علی الصبح رابطہ منقطع ہونے کے بعد بڑے پیمانے پر تلاش اور بچاؤ کا آپریشن شروع کیا گیا۔ جہاز پر مجموعی طور پر 243 افراد سوار تھے۔
انڈونیشیا کی خبر رساں ایجنسی انتارا کے مطابق بنجرماسین سرچ اینڈ ریسکیو دفتر کے سربراہ آئی پوتو سودایانا نے بتایا کہ ہنگامی صورتحال کی اطلاع ملنے کے فوراً بعد علاقے میں موجود تین تجارتی جہازوں نے لاپتا جہاز کے مسافروں کا سراغ لگایا اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کیا۔
سودایانا نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ وسطی انڈونیشیا کے وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے تک 103 مسافروں کو بحفاظت بچا لیا گیا تھا۔ تاہم ان میں سے ایک شخص کی جان نہیں بچائی جا سکی۔
انہوں نے بتایا کہ تلاش اور بچاؤ کی کارروائی میں ٹی بی ماؤہاؤ 9، ٹی بی ٹی سی پی اور ایم وی ہائیڈا سمیت متعدد جہازوں کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ اس وقت 140 لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔
تین تجارتی جہازوں کے علاوہ امدادی آپریشن میں کے این ایس اے آر لکسمان، انڈونیشیائی بحریہ کا جنگی جہاز کے آر آئی نالا اور نیویگیشن جہاز کے ایم کونیئت کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق خراب موسم کے دوران مقامی وقت کے مطابق اتوار کی صبح تقریباً 2 بجے ورجینو ٹرانسپورٹ 8 سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔ یہ جہاز 12 ستمبر کو مشرقی جاوا کے شہر سورابایا سے روانہ ہوا تھا اور بنجرماسین کی جانب جا رہا تھا۔
دی کوریا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بنجرماسین سرچ اینڈ ریسکیو دفتر کے سربراہ آئی پوتو سودایانا نے بتایا کہ جہاز کے کپتان نے ہنگامی پیغام بھیجنے سے قبل سمندر کی خراب صورتحال اور تقریباً 3 میٹر (10 فٹ) بلند لہروں کی اطلاع دی تھی۔ کپتان نے یہ بھی بتایا تھا کہ جہاز ایک جانب جھک رہا ہے۔
بعد میں حکام کو اطلاع ملی کہ جہاز الٹ گیا ہے، جس کے بعد بڑے پیمانے پر تلاش اور بچاؤ کا آپریشن شروع کیا گیا۔
دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 17 ہزار جزائر پر مشتمل انڈونیشیا میں جزائر کے درمیان آمد و رفت کے لیے فیری اور دیگر بحری جہازوں پر بہت زیادہ انحصار کیا جاتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سمندری سفر فضائی سفر کے مقابلے میں نسبتاً سستا اور عام لوگوں کے لیے زیادہ قابل رسائی ہے۔
تاہم ملک میں بحری نقل و حمل کے دوران حفاظتی ضوابط پر ہمیشہ سختی سے عمل درآمد نہیں ہو پاتا، جس کے نتیجے میں بحری حادثات کا خطرہ نسبتاً زیادہ رہتا ہے۔
تلاش اور بچاؤ کی کارروائی میں مصروف ٹیمیں لاپتہ 140 افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ حکام حادثے کی مکمل وجوہات جاننے کے لیے بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan