تاجپر سے سات سمندر پار تک: ہنسابین کے ہاتھوں سے بنے ہلکے لحاف نے دنیا میں بنائی پہچان
سورت/امریلی، 11 ستمبر (ہ س)۔ گجرات کے امریلی ضلع کی لاٹھی تحصیل میں ایک چھوٹا سا گاؤں تاجپر ہے۔ یہاں کھیت ہیں، کچے -پکے مکانات ہیں اور گاؤں کی اپنی سادگی ہے۔ اسی گاؤں میں رہنے والی 55 سالہ راٹھوڑ ہنسابین دان سنگھ بھائی نے اپنے ہاتھوں کے ہنر سے ا
hansaben-women-empower-gudada


سورت/امریلی، 11 ستمبر (ہ س)۔ گجرات کے امریلی ضلع کی لاٹھی تحصیل میں ایک چھوٹا سا گاؤں تاجپر ہے۔ یہاں کھیت ہیں، کچے -پکے مکانات ہیں اور گاؤں کی اپنی سادگی ہے۔ اسی گاؤں میں رہنے والی 55 سالہ راٹھوڑ ہنسابین دان سنگھ بھائی نے اپنے ہاتھوں کے ہنر سے ایسی شناخت بنائی ہے، جس کی رسائی اب سات سمندر پار تک ہوچکی ہے۔

ہنسابین نے صرف دوسری جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے، لیکن زندگی نے انہیں محنت، ہنر اور کاروبار کا ایسا سبق سکھایا کہ آج ان کے ہاتھوں سے تیار ہونے والے روایتی ہلکے لحاف کی مانگ گجرات سے نکل کر بیرون ملک تک پہنچ رہی ہے۔

ہنسابین کے پاس تقریباً 25 بیگھہ زمین ہے۔ زراعت ان کا بنیادی کام رہا، لیکن تقریباً چھ ماہ قبل انہوں نے ہلکے لحاف بنانے کا کام شروع کیا۔ ابتدا بالکل چھوٹی سطح سے ہوئی اور پہلا لحاف سورت میں فروخت ہوا۔ یہی پہلا قدم آگے چل کر ان کے لیے ایک نئی راہ بن گیا۔ ہلکے لحاف کا معیار، مضبوط سلائی اور ہاتھ کی شاندار کاریگری لوگوں کو پسند آئی۔ رفتہ رفتہ مانگ بڑھتی گئی اور آج تاجپر میں تیار ہونے والاہلکا لحاف ملک کے مختلف حصوں کے ساتھ بیرون ملک بھی پہنچ رہا ہے۔

ہنسابین کے تیار کردہ ہلکے لحاف امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، عمان، دبئی اور افریقہ تک پہنچ چکے ہیں۔ اب تک 600 سے زائد ہلکے لحاف کی بیرون ملک فروخت کی اطلاع ہے۔ ایک دور دراز گاؤں کی خاتون کے ہاتھوں تیار کیا گیا روایتیہلکا لحاف جب ہزاروں کلومیٹر دور دوسرے ممالک کے گھروں تک پہنچتا ہے تو یہ محض ایک مصنوعات کی فروخت نہیں رہتی، بلکہ دیہی بھارت کی دست کاری اور خواتین کی خود کفالت کی کہانی بن جاتی ہے۔

ہنسابین کی کامیابی کی خاص بات صرف بیرون ملک تک پہنچنے والی فروخت نہیں ہے۔ ان کے کام سے گاو¿ں کے تقریباً 20 سے 25 لوگوں کو روزگار بھی مل رہا ہے۔یعنی چھ ماہ پہلے شروع کی گئی ایک چھوٹی سی کوشش اب کئی لوگوں کے لیے آمدنی کا ذریعہ بن چکی ہے۔ ہنسابین کے مطابق روزانہ تقریباً 15 لحاف کی فروخت ہوتی ہے، جبکہ ایک ماہ میں تقریباً 400 سے 600 لحاف فروخت ہوجاتے ہیں۔

گجرات میں ایک لحاف کی قیمت تقریباً 1,800 روپے ہے۔ گجرات سے باہر ملک کی دوسری ریاستوں میں اس کی قیمت تقریباً 2,200 روپے تک پہنچ جاتی ہے۔ بیرون ملک بھی لحاف کی قیمت تقریباً 1,800 روپے بتائی گئی ہے، جبکہ اسے بیرون ملک پہنچانے کا کوریئر خرچ تقریباً 7,000 روپے الگ سے آتا ہے۔

اس ہلکے ایک لحاف تیار کو کرنے میں تقریباً 5 میٹر کپڑا لگتا ہے۔ کپڑے کے معیار کے مطابق اس کی قیمت 55 سے 140 روپے فی میٹر تک ہوتی ہے۔ لحاف میں تقریباً 1.5 کلو روئی بھری جاتی ہے، جس کی قیمت تقریباً 150 سے 200 روپے فی کلو ہے۔اس کے علاوہ دھاگے، سلائی اور مزدوری کا خرچ بھی شامل ہوتا ہے۔ ایک لحاف پر تقریباً 300 روپے مزدوری دی جاتی ہے۔

یہ بنا ہوا ہلکا لحاف اگرچہ معمولی کام لگ سکتا ہے، لیکن اس کے پیچھے کافی محنت ہوتی ہے۔ کپڑے کا انتخاب، اس کی ڈیزائننگ، مناسب مقدار میں روئی بھرنا، تہوں کو ترتیب دینا اور مضبوط سلائی کرنا—ہر مرحلے میں تجربے اور کاریگری کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہنسابین نے اسی روایتی ہنر کو کاروبار میں تبدیل کردیا۔ انہوں نے نہ کوئی بڑی کمپنی شروع کی اور نہ ہی کسی بڑے شہر سے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ ان کی شروعات تاجپر کے ایک چھوٹے سے گھر سے ہوئی۔ ہنسابین کی کہانی اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ دیہی خواتین کی صلاحیت کو اجاگر کرتی ہے۔ محدود رسمی تعلیم کے باوجود انہوں نے اپنے ہنر کو پہچانا، اسے روزگار میں تبدیل کیا اور رفتہ رفتہ اپنی منڈی تیار کی۔

آج جس ہلکے لحاف کی شروعات سورت سے ہوئی تھی، وہ امریکہ اور کینیڈا جیسے ممالک تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے کام سے گاؤں کے دیگر لوگوں کو روزگار مل رہا ہے اور روایتی دست کاری کو بھی نئی منڈی مل رہی ہے۔

تاجپر کی مٹی میں تیار ہونے والا ایک سادہ سا لحاف آج سات سمندر پار پہنچ رہا ہے۔ ہنسابین کی کہانی یہی بتاتی ہے کہ بڑی منزل کے لیے ہمیشہ بڑے شہر کی ضرورت نہیں ہوتی، کئی بار ایک چھوٹے گاؤں کا ہنر ہی دنیا تک پہنچنے کا راستہ بنا دیتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande