اسکن ٹی بی کے مریضوں میں ڈی آر- ٹی بی کا خطرہ بڑھا، کے جی ایم یو کی تحقیق میں انکشاف
لکھنؤ، 11 ستمبر (ہ س)۔ تپِ دق (ٹی بی) صرف پھیپھڑوں تک محدود نہیں ہے۔ ٹی بی کا جراثیم جسم کے دیگر اعضا کو بھی متاثر کرسکتا ہے، جس میں جلد بھی شامل ہے۔ طبی اصطلاح میں اسے ایکسٹرا پلمونری ٹی بی کہا جاتا ہے، یعنی ایسی ٹی بی جو پھیپھڑوں کے علاوہ جسم کے
UP-KGMU-RESEARCH-DR-TB


لکھنؤ، 11 ستمبر (ہ س)۔ تپِ دق (ٹی بی) صرف پھیپھڑوں تک محدود نہیں ہے۔ ٹی بی کا جراثیم جسم کے دیگر اعضا کو بھی متاثر کرسکتا ہے، جس میں جلد بھی شامل ہے۔ طبی اصطلاح میں اسے ایکسٹرا پلمونری ٹی بی کہا جاتا ہے، یعنی ایسی ٹی بی جو پھیپھڑوں کے علاوہ جسم کے کسی دوسرے حصے میں پیدا ہوتی ہے۔سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ اسکن ٹی بی سے متاثرہ مریضوں میں دوا مزاحم (ڈی آر) ٹی بی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی (کے جی ایم یو) میں کیے گئے ایک مطالعے میں یہ بات سامنے آئی ہے۔ یہ تحقیق انڈین جرنل آف ڈرمیٹولوجی، وینیرولوجی اینڈ لیپرو لوجی (آئی جے ڈی وی ایل ) میں شائع ہوئی ہے۔

54 مریضوں پر کیا گیا مطالعہ

کے جی ایم یو کے شعبہ امراض جلد کے 2019 سے 2022 کے درمیان کیے گئے مطالعے میں اسکن ٹی بی کے 54 مریضوں کو شامل کیا گیا۔ ان کی عمریں 20 سے 40 سال کے درمیان تھیں۔ ان میں سات مریضوں میں دوا مزاحم ٹی بی پائی گئی۔ تمام مریض ایچ آئی وی منفی تھے۔تحقیق میں پایا گیا کہ چھ مریضوں پر ٹی بی کی سب سے مو¿ثر دوا کا اثر نہیں ہو رہا تھا۔ ایسے مریضوں کو کثیر ادویاتی مزاحم (ایم ڈی آر) ٹی بی کی ادویات دی گئیں۔ وہیں ایک مریض پر ایک اور اہم ٹی بی مخالف دوا اثر انداز نہیں ہو رہی تھی، اس کا علاج مقررہ معیار کے مطابق کیا گیا۔

اطمینان کی بات یہ رہی کہ علاج شروع ہونے کے تقریباً ایک ماہ کے اندر ہی مریضوں کی حالت میں بہتری آنے لگی۔ جن مریضوں نے علاج مکمل کیا، ان کے جلد کے زخم مکمل طور پر ٹھیک ہوگئے۔

سات مریضوں میں اسکن ٹی بی کی چار اقسام

تحقیق میں سامنے آیا کہ ان سات مریضوں میں تین کو لوپس ولگیریس (جلد پر سرخی مائل بھورے دھبے اور زخم)، دو کواسکروفیولوڈرما (گانٹھسے مواد کا اخراج)، ایک کوٹیوبرکیولر ایبسس (جلد کے نیچے مواد بھری گانٹھ) اور ایک مریض کوٹیوبرکیولر چینکر (جلد پر چھالے نما زخم) تھا۔

تحقیق میں اہم چیلنج یہ رہا کہ اسکن ٹی بی میں عام طور پر بیکٹیریا کی تعداد بہت کم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے کلچر ٹیسٹ کے ذریعے ٹی بی کے جراثیم کی شناخت اور دوا کے خلاف مزاحمت کا پتہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ ایسے میں جدید مالیکیولر تشخیصی ٹیسٹ بہتر نتائج فراہم کرتے ہیں۔

اسکن ٹی بی کی تصدیق کے لیے ضروری ٹیسٹ

کے جی ایم یو کے سینٹر آف ایکسیلنس فار ڈرگ ریزسٹنٹ ٹی بی کے بانی و انچارج پروفیسر سوریہ کانت کے مطابق اسکن ٹی بی کو صرف جلد تک محدود بیماری سمجھ کر دوا کے خلاف مزاحمت کے امکان کو نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ایسے مریضوں میں جین ایکسپرٹ، ہسٹوپیتھولوجی، کلچر اور ڈرگ سسیپٹیبلٹی ٹیسٹنگ (ڈی ایس ٹی ) انتہائی ضروری ہیں، تاکہ بیماری کی درست صورتحال کا پتہ چل سکے۔

پروفیسر سوریہ کانت کے مطابق دوا مزاحم ٹی بی کی جلد شناخت اور مناسب علاج ٹی بی پر قابو پانے کی سمت میں مو¿ثر قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی بی سے پاک بھارت کا عزم پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ گاو¿ں کے پردھان سے لے کر وزیر اعظم تک، ہر فرد کو ٹی بی کے خلاف اس عوامی مہم میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

انفیکشن دماغ تک پہنچ سکتا ہے

کے جی ایم یو کی پروفیسر ڈاکٹر پارول ورما کے مطابق اسکن ٹی بی میں بھی دوا مزاحم ٹی بی کے کیس سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دوا مزاحم اسکن ٹی بی کی علامات عام اسکن ٹی بی جیسی ہی ہوتی ہیں، اس لیے ظاہری معائنے سے دونوں میں فرق کرنا مشکل ہوتا ہے۔

اسی وجہ سے ہر ٹی بی مریض میں دوا مزاحم ٹی بی کی جانچ کے لیے سی بی ناٹ اور کلچر ٹیسٹ کرایا جاتا ہے۔ جانچ میں دوا مزاحم ٹی بی کی تصدیق ہونے پر اسی کے مطابق علاج کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایسے مریض کو عام ٹی بی کی ادویات دینے سے فائدہ نہیں ہوگا اور بیماری جسم کے دیگر اعضا تک پھیل سکتی ہے۔ سینے اور دماغ تک انفیکشن پہنچنے پر صورتحال سنگین ہوسکتی ہے۔ اس لیے جلد تک محدود رہنے کے دوران ہی اس کی شناخت اور مناسب علاج ضروری ہے۔

ڈبلیو جی ایس ٹیکنالوجی پر زور

یونیورسٹی کے شعبہ امراض جلد کی پروفیسر اور سربراہ ڈاکٹر سواستیکا سووریہ کے مطابق بھارت میں ٹی بی کے جراثیم میں ایسے جینیاتی تغیرات پائے گئے ہیں جن کی وجہ سے وہ ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کرلیتے ہیں۔ عام مالیکیولر ٹیسٹ ہمیشہ ان جراثیم کی شناخت نہیں کر پاتے۔

اس لیے مستقبل میں ہول جینوم سیکوینسنگ (ڈبلیو جی ایس) جیسی جدید ٹیکنالوجی دوا مزاحم ٹی بی کی درست شناخت میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

زخم ٹھیک نہ ہونے پر اسکن ٹی بی کی جانچ ضروری

سانس کے امراض کے شعبہ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر جیوتی باجپئی کے مطابق جلد پر ہونے والے زخم اور السر کو معمولی بیماری سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ عام علاج کے باوجود اگر زخم چار سے چھ ہفتے تک ٹھیک نہ ہو تو اس کی وجہ اسکن ٹی بی بھی ہوسکتی ہے۔ ایسے مریضوں کو اسکن ٹی بی کی جانچ ضرور کرانی چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ اسکن ٹی بی کا علاج 9 سے 18 ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔ قوتِ مدافعت کمزور ہونے کی صورت میں انفیکشن دوبارہ ہوسکتا ہے۔ دوا کا کورس ادھورا چھوڑنے سے ڈی آر ٹی بی پیدا ہوسکتی ہے۔

اس مطالعے میں پرکرتی شکلا، امیتا جین، ارمیلا سنگھ، سومیا سنگھ، اتین سنگھئی اور سِرشٹی ترپاٹھی بھی شامل تھیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande