
نئی دہلی، 10 ستمبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے پیکڈفوڈ میں چینی، نمک اور چکنائی کی زیادہ مقدار سے بچوں کی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ جسٹس جے بی پاردی والا کی سربراہی والی بنچ نے واضح انتباہی لیبل جلد نافذ کرنے کے لیے ایف ایس ایس اے آئی کو سخت اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ایف ایس ایس اے آئی نے پیکٹ کے سامنے والے حصے پر سرخ رنگ کا انتباہی نشان لگانے کی تجویز پیش کی ہے۔ عدالت اس معاملے پر ایک دو روز کے اندر تفصیلی حکم جاری کرے گی۔ معاملے کی اگلی سماعت 28 ستمبر کو ہوگی۔
سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا کہ وہ ملک کے عام لوگوں اور خاص طور پر بچوں کی صحت کو لے کر کافی فکرمند ہے۔ عدالت نے کہا کہ ملک کی صحت سے متعلق اس سنگین معاملے پر تمام متعلقہ فریقوں کو قومی مفاد میں مل کر غور کرنا چاہیے۔
یہ عرضی 3 ایس اینڈ آور ہیلتھ سوسائٹی نامی ٹرسٹ نے دائر کی ہے۔ سماعت کے دوران عرضی گزار کے وکیل نے کہا کہ کرکرے جیسے انتہائی پروسیسڈ اسنیکس کو انڈے اور نمکین کاجو جیسی غذائیت سے بھرپور اشیا کے برابر کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویجیٹیرین (سبز) اور نان ویجیٹیرین (سرخ) اشیا کے نشانات سے کسی قسم کی الجھن نہ ہو، اس لیے انتہائی پروسیسڈ فوڈ پر انتباہ کے لیے سرخ رنگ کے بجائے کسی دوسرے واضح رنگ کا نشان استعمال کیا جانا چاہیے۔
اس سے قبل سماعت کے دوران ایف ایس ایس اے آئی نے حلف نامہ داخل کرکے کہا تھا کہ انتہائی زیادہ نمک، چینی اور چکنائی والے پیکٹ بند کھانے کی اشیا پر پیکٹ کے اگلے حصے میں ہی سرخ رنگ کا چھ کونوں والا انتباہی نشان لگانے کا منصوبہ ہے۔ آئی سی ایم آر-این آئی این کی ’ڈائٹری گائیڈ لائنز 2024‘ کی بنیاد پر تیار کیے گئے اس نشان پر واضح طور پر ’ہائی فیٹ‘، ’ہائی شوگر‘ یا ’ہائی سالٹ‘ لکھا ہوگا، تاکہ صارف پیکٹ دیکھتے ہی اس کی شناخت کر سکیں۔ حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ اسے دو مرحلوں میں نافذ کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد