چینی کے تھوک قیمتوں میں فی کوئنٹل 500 روپے کی کمی
پونے، یکم ستمبر(ہ س)۔ مرکزی وزارتِ خوراک نے ستمبر کے پہلے پندرہ دنوں یعنی 01 سے 15 ستمبر کے دوران 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی کا کوٹہ جاری کیا ہے۔ پندرہ روزہ تقسیم کے نئے نظام کے تحت جاری کیے گئے اس وافر کوٹے کا اثر چینی کی مارکیٹ قیمتوں پر پڑا ہے اور
Sugar Quota Wholesale Prices Fall


پونے، یکم ستمبر(ہ س)۔ مرکزی وزارتِ خوراک نے ستمبر کے پہلے پندرہ دنوں یعنی 01 سے 15 ستمبر کے دوران 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی کا کوٹہ جاری کیا ہے۔ پندرہ روزہ تقسیم کے نئے نظام کے تحت جاری کیے گئے اس وافر کوٹے کا اثر چینی کی مارکیٹ قیمتوں پر پڑا ہے اور تھوک بازار میں چینی کی قیمت تقریباً 500 روپے فی کوئنٹل کم ہو کر 5 ہزار روپے فی کوئنٹل تک آ گئی ہے۔بازار میں صارفین کی جانب سے چینی کی خریداری بھی سست پڑ گئی ہے، جبکہ شوگر ملوں کی جانب سے جاری ٹینڈروں کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ تاجروں کے مطابق شوگر ملوں سے چینی کے ٹینڈر کی قیمت 4500 سے 4700 روپے فی کوئنٹل کی سطح پر آ گئی ہے۔ مرکزی حکومت نے اگست کے مہینے کے لیے مجموعی طور پر 22.50 لاکھ ٹن چینی کا کوٹہ جاری کیا تھا۔ اس حساب سے ہر پندرہ دن کے لیے اوسطاً 11.25 لاکھ ٹن چینی کی سپلائی متوقع تھی۔ تاہم ستمبر کے پہلے پندرہ دنوں کے لیے 13 لاکھ ٹن چینی کا کوٹہ مقرر کیے جانے سے بازار میں نسبتاً زیادہ مقدار میں چینی دستیاب ہو گی۔آنے والے تہواروں کے موسم میں چینی کی بڑھتی ہوئی مانگ اور ممکنہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے مقصد سے یہ اضافی کوٹہ دیا گیا ہے۔ ستمبر کے پہلے پندرہ دنوں کے لیے مرکز کی جانب سے مقرر کی گئی چینی کی سپلائی میں بھارتی شوگر ملوں سے 12 لاکھ میٹرک ٹن جبکہ کانڈلا ریفائنری سے 1 لاکھ میٹرک ٹن چینی شامل ہے۔ اس طرح بازار میں مجموعی طور پر 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی خالص سپلائی ہوگی۔شراون کے مہینے اور آنے والے گوری گنیش اتسو کے پیش نظر چینی کی مانگ میں اضافے کا امکان ہے۔ اسی ممکنہ مانگ کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے چینی کا وافر کوٹہ دستیاب کرایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 7 دن کے اندر 40 فیصد چینی فروخت کرنے کی پابندی کے باعث بازار میں چینی کی باقاعدہ اور مناسب سپلائی برقرار رہنے کی توقع ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande