مکہ دفاعی معاہدہ ایران کے خلاف نہیں، کسی حملہ آور ملک کو ہدف بنایا جائے گا: ہاکان فیدان
ریاض،09اگست(ہ س)۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر ایران سے متعلق قیاس آرائیوں کے درمیان ترکیہ نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا کہنا ہے کہ معاہدے
مکہ دفاعی معاہدہ ایران کے خلاف نہیں، کسی حملہ آور ملک کو ہدف بنایا جائے گا: ہاکان فیدان


ریاض،09اگست(ہ س)۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر ایران سے متعلق قیاس آرائیوں کے درمیان ترکیہ نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا کہنا ہے کہ معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کی مشترکہ سلامتی اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ہاکان فیدان نے ہفتے کے روز کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ فنی اعتبار سے نیٹو کے اجتماعی دفاع کے اصول سے مشابہت رکھتا ہے۔ معاہدے کے تحت اگر تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

فیدان نے واضح کیا کہ اس معاہدے میں ایران کو کسی طور پر ہدف نہیں بنایا گیا۔ ان کے مطابق کوئی بھی ملک اس معاہدے کا ہدف نہیں ہوگا، جب تک وہ معاہدے میں شامل کسی ملک کے خلاف مسلح کارروائی نہیں کرتا۔ترک وزیر خارجہ کے مطابق مکہ دفاعی معاہدے میں نیٹو کے طرز پر ایک وزارتی کمیٹی تشکیل دینے کی شق شامل ہے۔ اس کے علاوہ معاہدے کے تحت طے شدہ سرگرمیوں میں رابطہ کاری اور مختلف فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے جنرل سیکریٹریٹ بھی قائم کیا جائے گا۔فیدان نے بتایا کہ بعض تکنیکی معاملات طے پانے کے بعد مصر بھی اس دفاعی معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف اتحاد بنانے کے بجائے رکن ممالک کی دفاعی صلاحیت بڑھانے، سلامتی کو مضبوط بنانے اور مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تعاون کا فریم ورک فراہم کرتا ہے۔بحیرہ احمر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ہاکان فیدان نے کہا کہ اس اہم بحری راستے میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت ترکیہ کے مفادات سے براہِ راست منسلک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بحری راستوں کے تحفظ اور عالمی جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں تشکیل پانے والے بین الاقوامی اتحاد میں ترکیہ کو بھی شامل ہونا چاہیے۔مکہ دفاعی معاہدے کی اہم شق کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر ہونے والا مسلح حملہ تمام فریق ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس شق کے ذریعے تینوں ممالک نے ایک دوسرے کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے مشترکہ دفاعی تعاون کا عزم ظاہر کیا ہے۔معاہدے میں دفاعی اور عسکری تعاون کے مختلف شعبوں کو فروغ دینے، مشترکہ رابطہ کاری بہتر بنانے، دفاعی تیاریوں کو مضبوط کرنے اور مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں سلامتی کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ دفاعی تعاون کا یہ نیا فریم ورک ان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں میں مدد دے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande