ملک کی کل بجلی کا 54 فیصد صاف ذرائع سے
ملک کی کل بجلی کا 54 فیصد صاف ذرائع سے نئی دہلی، 09 اگست (ہ س)۔ ملک نے 31 جولائی تک غیر فوسل ایندھن پر مبنی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے 300 گیگا واٹ کا ہندسہ عبور کرلیا ہے۔ یہ سال 2030 تک حاصل کیے جانے والے 500 گیگا واٹ کی صلاحیت کے ہدف
قابل تجدید توانائی کو ظاہر کرتی نمائندہ تصویر


ملک کی کل بجلی کا 54 فیصد صاف ذرائع سے

نئی دہلی، 09 اگست (ہ س)۔

ملک نے 31 جولائی تک غیر فوسل ایندھن پر مبنی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے 300 گیگا واٹ کا ہندسہ عبور کرلیا ہے۔ یہ سال 2030 تک حاصل کیے جانے والے 500 گیگا واٹ کی صلاحیت کے ہدف کا 60 فیصد سے زیادہ ہے۔ ملک کی کل بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت، جو اس وقت تقریباً 552 گیگا واٹ ہے، میں غیر فوسل ایندھن سے پیدا ہونے والی بجلی کی صلاحیت کا حصہ 54 فیصد سے زیادہ ہوگیا ہے۔

جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق غیر فوسل ایندھن کی صلاحیت کی تفصیل اس طرح ہے- شمسی توانائی: 164.59 گیگا واٹ، ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی: 58.14 گیگا واٹ، آبی بجلی (بڑے اور چھوٹے منصوبے): 57.24 گیگا واٹ، حیاتیاتی توانائی: 11.75 گیگا واٹ، جوہری توانائی: 8.78 گیگا واٹ۔ یہ مجموعی طور پر 300.50 گیگا واٹ ہے۔

موجودہ حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزارت کا کہنا ہے کہ قابل تجدید توانائی کی صلاحیت میں ہونے والی تیز رفتار پیش رفت ملک میں قابل تجدید توانائی کی پیداوار میں بھی نظر آتی ہے، جو 25-2014 میں 190.96 ارب یونٹ سے بڑھ کر 26-2025 میں 477.79 ارب یونٹ ہوگئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande