
نئی دہلی، 10 اگست (ہ س)۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ایک انگریزی اخبار میں شائع اپنے مضمون میں حکومت سے 20 جولائی کو پارلیمنٹ کے قریب طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کی جوابدہی طے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ مظاہرین کے خلاف آنسو گیس، لاٹھی اور پیلیٹ گن کے استعمال کی ذمہ داری طے ہونی چاہیے۔ مرکزی حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ طلبہ کے خلاف کارروائی کا حکم کس نے دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وزیر داخلہ امت شاہ نے کارروائی کی اجازت دی تھی تو اس کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے، اور اگر انہیں اس کی اطلاع نہیں تھی تو یہ ان کی انتظامی نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔
راہل گاندھی نے 20 جولائی کو ملک بھر سے دہلی پہنچنے والے نوجوانوں کے احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ منصفانہ تعلیمی نظام اور پیپر لیک کے معاملات میں جوابدہی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کے مطابق نوجوانوں نے ملک میں پرامن احتجاج کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے آئینی حقوق کے تحت انصاف کا مطالبہ کیا۔
راہل گاندھی نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے احتجاج کے خلاف طاقت کا استعمال کیا۔ مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے، نوکیلی لاٹھیاں اور پیلیٹ گن استعمال کی گئیں۔ انہوں نے مضمون میں بہار میں طلبہ مظاہرین پر فائرنگ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ارریہ، سیوان سمیت بہار کے مختلف علاقوں میں کئی مظاہرین زخمی ہوئے۔
راہل گاندھی نے بتایا کہ انہوں نے 19 سالہ طالب علم ساحل لوچاب سے ملاقات کی۔ ان کے مطابق ساحل کے جسم کے اوپری حصے میں پیلیٹ کے چھروں کے زخم ہیں اور ایک چھرا اس کی آنکھ میں لگا، جس سے اس کی بینائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ پارلیمنٹ سے تقریباً 500 میٹر کے فاصلے پر طلبہ کے خلاف ہونے والی کارروائی کی اجازت کس نے دی؟ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت دہلی پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس سمیت سکیورٹی فورسز موقع پر موجود تھیں اور یہ مرکزی وزیر داخلہ کی وزارت کے ماتحت آتی ہیں۔
راہل گاندھی نے کہا کہ ان کے سامنے دو ہی امکانات ہیں۔ پہلا یہ کہ اگر وزیر داخلہ نے کارروائی کی اجازت دی تھی تو اس کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔ دوسرا یہ کہ اگر انہیں کارروائی کی اطلاع نہیں تھی تو یہ سنگین انتظامی نااہلی کا معاملہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کے بعد بھی وزیر داخلہ نے نہ تو تحقیقات کا حکم دیا اور نہ ہی پارلیمنٹ میں اس معاملے پر بیان دیا۔ اپوزیشن مسلسل پارلیمنٹ میں اس مسئلے پر بحث کا مطالبہ کرتی رہی، لیکن اسے قبول نہیں کیا گیا۔
راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت کو طلبہ کی شکایات اور ان کے خلاف کی گئی کارروائی پر جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ احتجاج کرنے والی نوجوان خواتین اور ان کے والدین کو سوشل میڈیا پر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں عوامی طور پر معافی مانگنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
مضمون میں راہل گاندھی نے کہا کہ ملک کے نوجوان اب بیدار ہو رہے ہیں اور حکومت کی پالیسیوں اور اس کے کام کاج پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق 20 جولائی کو احتجاج کرنے والے ساحل اور ملک بھر کے ہزاروں نوجوانوں کی جوابدہی کے مطالبے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ملک کے نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan