
نئی دہلی، 9 اگست (ہ س)۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے کیرالم کے ملاپورم میں غیر قانونی دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی سے متعلق معاملے میں کلیدی ملزم حارث ٹی اے کو گرفتار کر لیا ہے۔ ہفتے کے روز ملاپورم سے ہوئی اس گرفتاری کے ساتھ معاملے میں گرفتار ملزمان کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔
این آئی اے کے مطابق حارث دھماکہ خیز مواد کی غیر قانونی خریداری کی سازش میں ملوث تھا۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایجنسی معاملے میں دھماکہ خیز مواد کی غیر قانونی خریداری اور اس کی نقل و حمل کے پیچھے موجود وسیع تر سازش کی تحقیقات کر رہی ہے۔
یہ معاملہ 7 فروری 2026 کو ملاپورم کے چیمماد-تھلاپارا روڈ پر واقع فرح ہولو برکس کمپنی کے احاطے میں کھڑے ایک ٹرک سے 89,600 دھماکہ خیز اسٹکس اور 10,500 شاک ٹیوبز (نان ایل) کی برآمدگی سے متعلق ہے۔ کیرالم پولیس نے ٹرک کو روک کر اس سے وابستہ تین افراد کو گرفتار کیا تھا۔ ملزمان کے پاس دھماکہ خیز مواد رکھنے یا اس کی نقل و حمل کے لیے کوئی قانونی لائسنس یا اجازت نامہ نہیں تھا۔
اس کے بعد این آئی اے نے معاملہ دوبارہ درج کرکے تحقیقات اپنے ہاتھ میں لے لی تھیں۔ تحقیقات کے دوران ایجنسی نے تین ریاستوں میں 19 مقامات پر تلاشی مہم چلائی۔ تلاشی کے دوران قابل اعتراض مواد برآمد ہوا اور دھماکہ خیز مواد کی غیر قانونی خریداری اور نقل و حرکت سے وابستہ دیگر افراد کی شناخت کی گئی۔
این آئی اے کے مطابق حارث ٹی اے معاملے کے کلیدی افراد میں شامل تھا اور برآمد کیے گئے دھماکہ خیز مواد کی غیر قانونی خریداری میں اس کا کردار سامنے آیا ہے۔ ایجنسی اس سے پوچھ گچھ کرکے دھماکہ خیز مواد کی خریداری کے ذرائع، اس کی نقل و حمل اور آخری منزل کے بارے میں معلومات حاصل کر رہی ہے۔
حارث کی گرفتاری سے ایک روز قبل 7 اگست کو این آئی اے نے کرناٹک کے وجے پورہ سے تین دیگر ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ اس سے قبل بھی ایجنسی اس معاملے میں کئی ملزمان کو گرفتار کر چکی ہے۔ اب تک مجموعی طور پر 10 ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
این آئی اے کی تحقیقات کا دائرہ اب غیر قانونی دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی تک محدود نہیں ہے۔ ایجنسی یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد کس مقصد کے لیے خریدا گیا تھا، اسے کہاں سے حاصل کیا گیا اور اس کی نقل و حمل اور سپلائی کے پیچھے کون کون لوگ ملوث تھے۔ ایجنسی کے مطابق معاملے میں وسیع تر سازش اور دھماکہ خیز مواد کی غیر قانونی خریداری و نقل و حرکت سے وابستہ نیٹ ورک کی تحقیقات جاری ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد