
چنڈی گڑھ، 9 اگست (ہ س)۔
شرومنی اکالی دل کے سینئر رہنما اور سابق وزیر تعلیم ڈاکٹر دلجیت سنگھ چیما نے پنجاب میں ایم بی بی ایس کی فیس میں اضافے کے فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ذہین طلبہ اور متوسط طبقے کے خاندانوں پر ’دوہرا جھٹکا‘ قرار دیا ہے۔
ڈاکٹر چیما نے کہا کہ طبی تعلیم پہلے ہی مہنگی ہے اور ایسے وقت میں سرکاری اور نجی میڈیکل کالجوں کی فیس میں اضافہ خاندانوں پر اضافی مالی بوجھ ڈالے گا۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیمی سیشن 2026-27 کے لیے سرکاری میڈیکل کالجوں میں 5.5 سالہ ایم بی بی ایس کورس کی مجموعی ٹیوشن فیس 9.98 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10.83 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نجی میڈیکل کالجوں میں سرکاری کوٹے کی فیس 21.48 لاکھ روپے سے بڑھا کر 25.22 لاکھ روپے اور مینجمنٹ کوٹے کی فیس 55.25 لاکھ روپے سے بڑھا کر 64.71 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ایک طرف طبی تعلیم کو مہنگا کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب نوجوان ڈاکٹروں کو مناسب تنخواہ اور محفوظ روزگار فراہم نہیں کر پا رہی۔ ان کے مطابق سرکاری ملازمت میں کئی نوجوان ڈاکٹروں کو تقریباً 50 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ملتی ہے۔
ڈاکٹر چیما نے مطالبہ کیا کہ حکومت فیس میں اضافے کے فیصلے پر نظرثانی کرے، ذہین اور معاشی طور پر کمزور طلبہ کے لیے اسکالرشپ اور مالی امداد شروع کرے، جبکہ نوجوان ڈاکٹروں کے لیے باقاعدہ بھرتی، باوقار تنخواہ اور واضح ترقیاتی پالیسی وضع کرے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ