
رانچی، 9 اگست (ہ س)۔
جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی) اور جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن (جے ایس ایس سی) کے امتحانات میں مبینہ بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے خلاف رانچی میں جاری طلبہ تحریک کے درمیان حکومت اور مظاہرین کے درمیان اتوار کو تیسری مرتبہ مذاکرات ہوئے، تاہم بات چیت کے باوجود کوئی اتفاق رائے قائم نہیں ہو سکا۔
غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے دیویندر ناتھ مہتو کی بھوک ہڑتال کا اتوار کو آٹھواں دن جبکہ ستیہ گرہ کا 16واں دن تھا۔ اسی دوران حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے چار وزرا نے ویڈیو کال کے ذریعے ان سے بات چیت کی۔
حکومت کی اعلیٰ سطحی کمیٹی میں شامل وزرا سدیپ کمار سونو، دیپیکا سنگھ پانڈے، چمرا لنڈا اور سنجے سنگھ یادو نے ویڈیو کال کے ذریعے دیویندر ناتھ مہتو سے طلبہ کے مطالبات پر تفصیلی گفتگو کی۔
دیویندر ناتھ مہتو کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزرا نے طلبہ کے مطالبات پر گفتگو کرتے ہوئے ان کے حل کی یقین دہانی کرائی اور ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی۔مہتو نے وزرا کی جانب سے بات چیت کی پہل کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ محض زبانی یقین دہانی کی بنیاد پر طلبہ کی بھوک ہڑتال اور تحریک ختم نہیں کی جا سکتی۔انہوں نے واضح کیا کہ جب تک حکومت طلبہ کے مطالبات پر تحریری جواب نہیں دیتی اور انہیں پورا کرنے کے لیے ٹھوس فیصلے نہیں کرتی، اس وقت تک ان کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔
دیویندر ناتھ مہتو نے کہا کہ طلبہ کے مطالبات کسی فرد یا مخصوص شخص کے مفاد سے وابستہ نہیں ہیں بلکہ ریاست کے مسابقتی امتحانات کے نظام کو شفاف، منصفانہ اور بدعنوانی سے پاک بنانے سے متعلق ہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ طلبہ کے مطالبات پر محض یقین دہانی کے بجائے تحریری اور قابلِ عمل فیصلہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک تحریری یقین دہانی اور مطالبات پر ٹھوس کارروائی نہیں ہوتی، ستیہ گرہ اور طلبہ تحریک جاری رہے گی۔
واضح رہے کہ جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی کے مختلف مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے الزامات کے خلاف طلبہ طویل عرصے سے احتجاج کر رہے ہیں۔ حکومت اور طلبہ کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں، لیکن مطالبات پر حتمی اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث تعطل برقرار ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan