وقت کی پابندی اور قابلِ اعتماد کارکردگی میں دہلی میٹرو نے دنیا کے معروف میٹرو نظاموں کو پیچھے چھوڑا
نئی دہلی، 9 اگست (ہ س)۔ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) نے ٹرینوں کے آپریشن میں وقت کی پابندی اور قابلِ اعتماد کارکردگی کے معاملے میں ہانگ کانگ میٹرو، پیرس میٹرو اور نیویارک سب وے جیسے دنیا کے معروف میٹرو نظاموں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ کئی می
وقت کی پابندی اور قابلِ اعتماد کارکردگی میں دہلی میٹرو نے دنیا کے معروف میٹرو نظاموں کو پیچھے چھوڑا


نئی دہلی، 9 اگست (ہ س)۔ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) نے ٹرینوں کے آپریشن میں وقت کی پابندی اور قابلِ اعتماد کارکردگی کے معاملے میں ہانگ کانگ میٹرو، پیرس میٹرو اور نیویارک سب وے جیسے دنیا کے معروف میٹرو نظاموں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ کئی میٹرو نظام کئی منٹ گزرنے کے بعد ہی تاخیر کو تاخیر تسلیم کرتے ہیں، جبکہ دہلی میٹرو 59 سیکنڈ سے زیادہ کی تاخیر کو بھی ’تاخیر‘ کے طور پر درج کرتی ہے۔

ڈی ایم آر سی کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ معلومات کے مطابق دہلی میٹرو کی وقت کی پابندی 2026 میں 99.95 فیصد رہی ہے۔ دہلی میٹرو نے 2003 میں اپنے آغاز کے وقت 98.27 فیصد وقت کی پابندی حاصل کی تھی، جو 2005 میں بڑھ کر 99.64 فیصد ہو گئی۔ اس طرح ڈی ایم آر سی نے آغاز کے صرف دو سال کے اندر ہی 99 فیصد سے زیادہ وقت کی پابندی حاصل کرنے والے مخصوص میٹرو نظاموں کی فہرست میں جگہ بنا لی۔ اس کے بعد ڈی ایم آر سی نے ہر سال مسلسل 99.9 فیصد وقت کی پابندی برقرار رکھی۔

دہلی میٹرو نے مصروف کوریڈورز پر ٹرینوں کے درمیان وقفہ ابتدائی برسوں کے 7 منٹ سے کم کرکے صرف 2 منٹ 18 سیکنڈ کر دیا ہے۔ عام طور پر جیسے جیسے نیٹ ورک اور بیڑے کا حجم بڑھتا ہے اور وقت کے ساتھ دیکھ بھال سے متعلق مسائل پیدا ہوتے ہیں، میٹرو نظام کی وقت کی پابندی اور قابلِ اعتماد کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ ڈی ایم آر سی نے 23 سال کے آپریشن کے دوران اس عمومی رجحان کو غلط ثابت کیا ہے۔ ڈی ایم آر سی کی ایک ٹرین اوسطاً 27.2 لاکھ کلومیٹر چلنے کے بعد ہی ایسی خرابی کا شکار ہوتی ہے جس سے سروس متاثر ہوتی ہے۔

معلومات کے مطابق 45 بڑے میٹرو نظاموں کی تنظیم ’کمیونٹی آف میٹروز‘ (کومیٹ) کی جانب سے کیے جانے والے بین الاقوامی بینچ مارکنگ کے مطابق قابلِ اعتماد کارکردگی کے معاملے میں دہلی میٹرو مسلسل دنیا کے ٹاپ 5 میٹرو نظاموں میں شامل رہی ہے۔ یہ درجہ بندی 2 منٹ کی تاخیر کے معیار پر مبنی ہے۔ اس کے علاوہ ڈی ایم آر سی بھارت کا سب سے بڑا ڈرائیور لیس میٹرو نیٹ ورک بھی چلاتا ہے، جس میں تقریباً 29 فیصد نیٹ ورک بغیر ڈرائیور عملے کے ٹرین آپریشن (یو ٹی او) کے تحت چلتا ہے۔ 71.55 کلومیٹر طویل اور 45 اسٹیشنوں پر مشتمل لائن 7 دنیا کی سب سے طویل ڈرائیور لیس میٹرو لائن ہے اور دنیا کی طویل ترین سرکلر میٹرو لائنوں میں سے ایک ہے۔ یہ گرین لائن کے ایک مختصر حصے کو چھوڑ کر دہلی میٹرو کے تقریباً ہر کوریڈور سے جڑتی ہے۔ اس لائن نے شہر کے مرکزی حصے میں انٹرچینج پر مسافروں کے ہجوم کو کافی حد تک کم کیا ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق، 25 دسمبر 2002 کو شاہدرہ سے تیس ہزاراری کے درمیان صرف 8.4 کلومیٹر اور 6 اسٹیشنوں سے معمولی آغاز کرنے والی دہلی میٹرو آج 12 لائنوں، 303 اسٹیشنوں اور 416.5 کلومیٹر پر پھیلے بھارت کے سب سے بڑے میٹرو ریل نیٹ ورک کے طور پر کام کر رہی ہے۔ اس میں 31 انٹرچینج اسٹیشن دہلی اور قومی دارالحکومت خطے (این سی آر) کو آپس میں جوڑتے ہیں۔ روزانہ مسافروں کی تعداد پہلے سال کے تقریباً 82,000 سے بڑھ کر 8 اگست 2025 کو ایک دن میں ریکارڈ 81 لاکھ مسافروں تک پہنچ گئی۔ ماسفروں کی اوسط یومیہ تعداد 64.06 لاکھ ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande