
نئی دہلی، 9 اگست (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی دہلی ریاست نے ایک حالیہ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ماضی میں جی ایس ٹی اور بجلی کی سبسڈی کی تقسیم میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں پر کیجریوال حکومت کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
اتوار کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما اور دہلی حکومت میں وزیر پرویش ورما نے عام آدمی پارٹی (اے اے پی) پر الزام لگایا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ کیجریوال حکومت میں کاموں کا کوئی حساب نہیں تھا۔ ڈیڑھ سال کے اندر ہماری حکومت آتے ہی 24 رپورٹیں آئی ہیں۔ ہر رپورٹ میں لاکھوں کروڑ روپے کی بدعنوانی ہمارے نوٹس میں آئی ہے۔ دو دن پہلے آنے والی رپورٹ میں بھی 3,500 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں پائی گئیں۔
سی اے جی کی رپورٹ کے مطابق، جی ایس ٹی رجسٹریشن کی منسوخی اور ٹیکس فائل نہ کرنے کے باوجود، اربوں روپے کے ای وے بل تیار کیے گئے، جس سے ریاست کے محصولات کو بہت بڑا نقصان پہنچا۔ انہوں نے بتایا کہ 24 ویں سی اے جی رپورٹ اسمبلی کے مانسون اجلاس میں پیش کی گئی تھی۔ سی اے جی رپورٹ بدعنوانی پر کیجریوال حکومت کا ریٹرن دستاویز ہے۔ کیجریوال حکومت ہر ایک مالی سال میں جو بدعنوانی کی ہے اس کا انکشاف ہمیں سی اے جی رپورٹ کے دستاویزات میں ملتا ہے۔
کیجریوال حکومت نے 8,334 ایسے ٹیکس دہندگان کے لیے ای-وے بل تیار کرنا جاری رکھا جن کا جی ایس ٹی رجسٹریشن پہلے ہی منسوخ ہو چکا تھا۔ اس کے ذریعے کل 68,680 کروڑ روپے کے ای-وے بل تیار کیے گئے۔ جن لوگوں نے کبھی ٹیکس فائل نہیں کیا انہوں نے 11,635 کروڑ روپے کے ای وے بل بھی تیار کیے۔ کل جنریٹ ہوئے 6.10 کروڑ ای-وے بلوں میں سے صرف0.10 فیصد معاملوں کی تحقیقات کی گئی۔ حکومت کی طرف سے صرف 70 مقدمات چلائے گئے، جن میں 3,071 کروڑ روپے کے محصولات کے غلط استعمال کا انکشاف ہوا۔ پاور سبسڈی اسکیم کے تحت 50,000 صارفین کو 17.81 کروڑ روپے کی سبسڈی جاری کی گئی جن کے پاس لگاتار 12 مہینوں سے صفر بجلی کی کھپت تھی۔
رپورٹ کی بنیاد پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ محکمہ جی ایس ٹی، متعلقہ وزرا اور حکومت اس دھوکہ دہی اور ٹیکس چوری سے پوری طرح واقف تھے۔ اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ غیر فعال ہونے کی بنیادی وجہ ٹیکس دہندگان کو دھمکاتے ہوئے جبری وصولی اور رشوت ستانی کا نیٹ ورک چلانا تھا۔
سرکاری ٹینڈرز اور مختلف محکموں میں بھی دھاندلی کے اسی طرح کے آثار رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس وقت اس مالی نقصان پر سابقہ حکومت سے جوابات طلب کیے جا رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی