
نئی دہلی، 9 اگست(ہ س)۔
شہری ہوابازی کی وزارت نے کہا ہے کہ ایئر انڈیا کے طیارے کے اچانک نیچے آنے کے واقعے میں پائلٹ اِن کمانڈ(پی آئی سی) کے ڈوپ ٹیسٹ کے ابتدائی نتائج کی مزید تصدیق ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے نمونے تصدیقی تجزیے کے لیے مقررہ لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں اور حتمی رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں ایسی میڈیا رپورٹس سامنے آئی تھیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ طیارے کے پائلٹ نے ڈوپ ٹیسٹ میں کامیابی حاصل نہیں کی۔ یہ واقعہ 4 اگست کو پیش آیا، جب ایئر انڈیا کا ایئربس اے 320 طیارہ دورانِ پرواز اچانک تقریباً 300 فٹ نیچے آ گیا۔یہ طیارہ تھائی لینڈ کے فوکیٹ سے نئی دہلی کے لیے پرواز نمبر اے آئی 2379 پر تھا۔ اچانک بلندی کم ہونے کے بعد طیارہ دوبارہ مستحکم ہوگیا اور بعد میں نئی دہلی ایئرپورٹ پر بحفاظت لینڈ کر گیا۔
وزارت نے بتایا کہ طیارے کے اچانک نیچے آنے کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ مقررہ تفتیشی عمل مکمل ہونے تک ڈی جی سی اے نے دونوں فلائٹ کریو ارکان کو ڈیوٹی سے ہٹا دیا ہے۔وزارت کے مطابق تحقیقات اور تصدیقی ٹیسٹ کے نتائج سامنے آنے کے بعد مزید مناسب کارروائی کی جائے گی۔
شہری ہوابازی کی وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ وزارت اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) ہوابازی کی حفاظت کے اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنایا جا رہا ہے کہ اس طرح کے تمام واقعات کی مکمل تحقیقات مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق کی جائیں اور ضرورت کے مطابق کارروائی ہو۔وزارت کے مطابق طیارے کے اچانک نیچے آنے کے دوران کچھ مسافروں اور کیبن کریو ارکان کو چوٹیں بھی آئی تھیں۔طیارے میں 3 شیر خوار بچوں سمیت 137 مسافر سوار تھے، جبکہ عملے میں دو پائلٹوں اور چھ کیبن کریو ارکان سمیت مجموعی طور پر 8 افراد شامل تھے۔
وزارت نے بتایا کہ ایسے واقعے کے بعد معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پی) کے تحت دونوں فلائٹ کریو ارکان کا نفسیاتی اثر ڈالنے والے مادوں سے متعلق مقررہ ٹیسٹ بھی کیا گیا تھا۔فی الحال پائلٹ کے ڈوپ ٹیسٹ کے بارے میں حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے اور تصدیقی لیبارٹری رپورٹ کا انتظار ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan