آسام میں سیلاب سے ایک لاکھ سے زائد افراد متاثر، ایک اور لاش برآمد
گوہاٹی، 9 اگست (ہ س)۔ آسام میں تباہ کن سیلاب کا اثر اب بھی ریاست کے مختلف علاقوں میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس دوران ریاستی حکومت 10 اگست سے اسکول کھولنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ تاہم اسکولوں میں کیچڑ بھرا ہوا ہے۔ اونچائی والے اسکولوں میں متاثرہ اف
آسام: سیلاب سے متاثرہ امدادی کیمپ میں لوگوں کے مسائل سنتے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہیمنت بسوا سرما


گوہاٹی، 9 اگست (ہ س)۔ آسام میں تباہ کن سیلاب کا اثر اب بھی ریاست کے مختلف علاقوں میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس دوران ریاستی حکومت 10 اگست سے اسکول کھولنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ تاہم اسکولوں میں کیچڑ بھرا ہوا ہے۔ اونچائی والے اسکولوں میں متاثرہ افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔ ایسے میں یہ دیکھنا ہوگا کہ تدریسی کام مقررہ تاریخ پر شروع ہو پاتا ہے یا نہیں۔ بالائی آسام کے شیوساگر، چرائی دیو، جورہاٹ اور گولاگھاٹ میں لوگوں کی معمول کی زندگی اب بھی بری طرح متاثر ہے۔ ریاست کے 12 اضلاع اب بھی سیلاب سے متاثر ہیں۔

آسام ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے 8 اگست کے اعداد و شمار کے مطابق دھنسری ندی (نملی گڑھ اور گولاگھاٹ) اور کسیارا ندی (شری بھومی) کے علاقوں میں اب بھی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ ہفتہ کو گولاگھاٹ ضلع میں ایک اور لاش برآمد ہوئی ہے۔ اس طرح سیلاب سے ریاست میں ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 98 ہوگئی ہے۔

سیلاب سے متاثرہ 12 اضلاع میں شونیت پور، نگاوں، گولاگھاٹ، شیوساگر، ہوجائی، درنگ، جورہاٹ، دھیمائی، چرائی دیو، کاربی آنگلونگ، لکھیم پور اور بشوناتھ شامل ہیں۔ ان اضلاع کے 30 ریونیو سرکل کے کل 460 گاوں متاثر ہیں۔ ریاست کی کل 147376 افراد اب بھی متاثر ہے اور 10599.89 ہیکٹر زرعی زمین پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔

امدادی اور بچاو مہم میں ایس ڈی آر ایف، فوج اور نیم فوجی دستے، این ڈی آر ایف، ڈی ڈی آر ایف، فضائیہ، پولیس، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز (ایف اینڈ ای ایس)، سرکل آفس اور مقامی انتظامیہ، سول ڈیفنس اور تربیت یافتہ رضاکار اور فائر بریگیڈ کا عملہ مصروف ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہفتہ کو ریاستی حکومت نے کل 55 طبی ٹیمیں تعینات کیں۔ 10 کشتیاں بھی امدادی کام میں مصروف رہیں۔ اس دوران کشتیوں کے ذریعے سیلاب سے متاثرہ 135 افراد کو بچا کر محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔ وہیں 5 مویشیوں کو بھی کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقام پر پہنچایا گیا۔

سیلاب سے بڑے پیمانے پر سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ ان کی مرمت کے لیے حکومت مسلسل جائزہ اجلاس کرکے حالات کا جائزہ لے رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہیمنت بسوا سرما اور ریاستی حکومت کے کئی وزراء مسلسل افسران کے ساتھ اجلاس کرکے متاثرین کی مدد کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande