سکھبیر بادل نے وزیر اعظم مودی سے ملاقات کی، پنجاب میں شرومنی اکالی دل اور بی جے پی اتحاد کی قیاس آرائیاں تیز
چنڈی گڑھ، 7 اگست (ہ س)۔ پنجاب اسمبلی انتخابات سے چند ماہ قبل، شرومنی اکالی دل کے صدر سکھبیر سنگھ بادل نے جمعہ کو نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی، جس سے پنجاب کی سیاست میں ایس اے ڈی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان ممکنہ انتخابی اتحا
Sukhbir-Badal-meets-PM-Modi


چنڈی گڑھ، 7 اگست (ہ س)۔ پنجاب اسمبلی انتخابات سے چند ماہ قبل، شرومنی اکالی دل کے صدر سکھبیر سنگھ بادل نے جمعہ کو نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی، جس سے پنجاب کی سیاست میں ایس اے ڈی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان ممکنہ انتخابی اتحاد کے بارے میں قیاس آرائیاں پھر تیز ہو گئی ہیں۔

وزیر اعظم سے سکھبیر کی ملاقات پارلیمنٹ ہاو¿س میں ہوئی اور تقریباً 20 منٹ تک جاری رہی۔ اگرچہ بی جے پی اور اکالی دل نے اس میٹنگ کے بارے میں کوئیباضابطہ بیان جاری نہیں کیا، لیکن سکھبیر بادل کے ساتھ موجود لیڈروں نے اسے ایک غیر رسمی میٹنگ قرار دیا اور بات چیت کے موضوعات کو ظاہر نہیں کیا۔

یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی جب دونوں جماعتیں 2027 کے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کی تیاری کر رہی ہیں۔ ایس اے ڈی اور بی جے پی تقریباً 23 برسوں تک اتحادی رہیں اور پنجاب میں تین بار مل کر حکومتیں بنا چکے ہیں۔ تاہم، ستمبر 2020 میں، اکالی دل نے مرکزی حکومت کے تین زرعی قوانین پر اختلافات کے بعد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس کے بعد، دونوں جماعتوں نے 2022 کے پنجاب اسمبلی کے انتخابات الگ الگ لڑے اور دونوں کو نمایاں انتخابی نقصان اٹھانا پڑا۔ اب سکھبیر بادل اور وزیر اعظم مودی کے درمیان ہونے والی ملاقات نے پرانے سیاسی اتحاد میں واپسی کا امکان بڑھا دیا ہے۔ تاہم دونوں پارٹیوں نے کھلے عام کہا ہے کہ وہ آئندہ اسمبلی انتخابات آزادانہ طور پر لڑیں گے۔

پنجاب بی جے پی کے صدر کیول سنگھ ڈھلوں نے کہا کہ ریاستی بی جے پی تمام 117 اسمبلی سیٹوں پر اپنے طور پر مقابلہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم ملک کے تمام لوگوں کے ہیں اور کوئی بھی سینئر رہنما ان سے ملاقات کر سکتا ہے۔

این کے شرما نے کہا کہ شرومنی اکالی دل کے صدر سکھبیر سنگھ بادل اور وزیر اعظم مودی کے درمیان ملاقات میں پنجاب سے متعلق اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان میں پیپر لیک، بگڑتا ہوا امن و امان اور عام لوگوں سے متعلق دیگر مسائل شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی اور اروند کیجریوال کی طرف سے شرومنی اکالی دل اور بی جے پی کے درمیان ممکنہ اتحاد کے بارے میں جو افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں وہ محض پنجاب کو درپیش حقیقی مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ این کے شرما نے کہا کہ پنجاب کو جھوٹے پروپیگنڈے کی نہیں دیانتدار نیت، احتساب اور مضبوط قیادت کی ضرورت ہے۔

پنجاب میں کانگریس، بی جے پی اور اکالی دل کے اندر جاری اندرونی چیلنجوں کے درمیان اس ملاقات کو سیاسی طور پر اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اگرچہ کسی بھی فریق نے اتحاد کے امکان کی تصدیق نہیں کی ہے، تاہم اس ملاقات نے یقینی طور پر 2027 کے انتخابات سے قبل نئی سیاسی صف بندیوں کے بارے میں قیاس آرائیوں کو ہوا دی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande