غیر ملکی پارسل میں ڈالر اور سونا بتا کر 1.46 لاکھ روپے کی دھوکہ دہی،نائجیریائی خاتون سمیت چار گرفتار
نئی دہلی، 07 اگست (ہ س)۔ جنوب مغربی ضلع پولیس کی سائبر تھانہ ٹیم نے غیر ملکی پارسل میں امریکی ڈالر اور سونا ہونے کا بہانہ کرکے سائبر فراڈ میں ملوث ایک بین ریاستی گینگ کا پردہ فاش کیا ہے۔ پولیس نے گروہ کے چار ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان میں ایک نا
SOUTH-WEST-DISTRICT-CYBER-FRAU


نئی دہلی، 07 اگست (ہ س)۔ جنوب مغربی ضلع پولیس کی سائبر تھانہ ٹیم نے غیر ملکی پارسل میں امریکی ڈالر اور سونا ہونے کا بہانہ کرکے سائبر فراڈ میں ملوث ایک بین ریاستی گینگ کا پردہ فاش کیا ہے۔ پولیس نے گروہ کے چار ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان میں ایک نائجیرین خاتون بھی شامل ہے۔ ملزمین نے متاثرہ سے واٹس ایپ چیٹ اور فون کال کے ذریعے رابطہ کیا اور دعویٰ کیا کہ وہ امریکہ کا رہائشی ہے۔ اس کے بعد غیر ملکی پارسلوں میں ڈالر اور سونا بھیجے جانے کی بات کہہ کر الگ الگ چارجز کے نام پر اس سے 1.46 لاکھ روپے ٹرانسفر کرا لئے۔ پولیس نے ملزمین کے قبضے سے فراڈ میں استعمال ہونے والے سات موبائل فون برآمد کر لیے ہیں۔

جنوب مغربی ضلع کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس امت گوئل نے جمعہ کو بتایا کہ 31 مارچ کو ایک شخص نے سائبر کرائم پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ نامعلوم افراد نے اس کے ساتھ آن لائن دھوکہ دہی کی ہے۔ مشتبہ افراد نے واٹس ایپ چیٹس اور فون کالز کے ذریعے دعویٰ کیا کہ ان کا تعلق امریکہ سے ہے۔ بات چیت کے دوران ملزمین نے پہلے متاثرہ کا اعتماد حاصل کیا اور پھر دعویٰ کیا کہ اس کے نام پر ایک غیر ملکی پارسل ہندوستان بھیجا گیا تھا جس میں امریکی ڈالر اور سونا تھا۔

پھر دھوکہ بازوں نے متاثرہ کو مختلف بہانوں سے رقم بھیجنے پر مجبور کیا۔ کبھی منی ڈیکلریشن سرٹیفکیٹ کے لیے، کبھی فلائٹ ٹکٹ کی بکنگ، کسٹم کلیئرنس کے لیے اور کبھی مبینہ طور پر ضبط شدہ سونا چھڑانے کے لیے رقم کا مطالبہ کیا۔ ملزمین پر یقین کرتے ہوئے، متاثرہ نے مجموعی طور پر 1.46 لاکھ روپے مختلف یو پی آئی -آئی ڈی اور بینک اکاونٹس میں منتقل کیے تھے۔

شکایت کی بنیاد پر سائبر تھانے میں ای ایف آئی آر درج کی گئی اور تحقیقات شروع کی گئی۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس ٹیم تشکیل دی گئی۔ ٹیم نے تکنیکی نگرانی، ڈیجیٹل شواہد اور بینک اکاونٹ کے لین دین کی تحقیقات شروع کر دیں۔ مالیاتی لین دین اور موبائل نمبروں کی چھان بین کرتے ہوئے پولیس دہلی سے تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے پھر وشاکھاپٹنمتک پہنچی۔

ڈپٹی کمشنر آف پولیس کے مطابق، تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ دیپک کمار، کونڈا ساگر، اور اجمیرا ونود کمار نے کمیشن کے عوض سائبر فراڈ گینگ کو میول بینک اکاو¿نٹس فراہم کراتے تھے۔ ان اکاونٹس کے ذریعے فراڈ کی رقوم الگ الگ بینک کھاتوں میں بھیج اس سے ذرائع کو چھپایا جاتا تھا۔ وہیں، وشاکھاپٹنم میں رہنے والی نائجیرین شہری سیمون میریکل چنانسودھوکہ دہی کے لئے مختلف عہدیداروں کی شناخت بتا کرپر متاثرین سے رابطہ کرتی تھی۔ الزام ہے کہ وہ خود کو امیگریشن افسر، کسٹم افسر یا کسی اور تنظیم کی نمائندہ ظاہر کرکے لوگوں سے غیر ملکی پارسل، کسٹم کلیئرنس، دستاویزات اور قیمتی سامان جاری کرنے کے نام پر رقم جمع کرنے کے لئے کہتی تھی۔

تکنیکی تحقیقات کی بنیاد پر، پولیس نے پہلے 22 سالہ دیپک کمار کو جنوبی دہلی کے میدان گڑھی سے گرفتار کیا اور اس کے قبضے سے ایک موبائل فون برآمد کیا۔ اس کے بعد ٹیم تلنگانہ کے جے شنکر بھوپال پلی پہنچی جہاں 33 سالہ کونڈا ساگر کو گرفتار کیا گیا۔ مزید تفتیش کے نتیجے میں 30 سالہ اجمیرا ونود کمار کی گرفتاری عمل میں آئی جو تلنگانہ کے ڈبا پیٹا سے ہے جس کے قبضے سے دو موبائل فون برآمد ہوئے۔

تکنیکی تحقیقات میں نائجیریا کی شہری سائمن میریکل چنانسو کے کردار کا انکشاف ہونے کے بعد پولیس کی ایک ٹیم وشاکھاپٹنم پہنچی اور اسے گرفتار کر لیا۔ اس کے قبضے سے فراڈ میں استعمال ہونے والے چار موبائل فون برآمد ہوئے ہیں۔ اس طرح پولیس نے مجموعی طور پر سات موبائل فون برآمد کیے ہیں۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمین سے گروہ میں شامل دیگر افراد اور فراڈ کی رقم کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کے لیے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande