مرکز نے سپریم کورٹ کو بتایا - منی پور کے سابق وزیر اعلیٰ بیرین سنگھ سے منسوب آڈیو کلپ میں چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی
نئی دہلی، 7 اگست (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ منی پور کے سابق وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ کی ریاست میں تشدد بھڑکانے کے لیے اکسانے سے متعلق مبینہ آڈیو کلپ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی۔ مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والی ایڈیشنل سالیسٹر جنرل
سپریم کورٹ۔ فائل فوٹو


نئی دہلی، 7 اگست (ہ س)۔

مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ منی پور کے سابق وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ کی ریاست میں تشدد بھڑکانے کے لیے اکسانے سے متعلق مبینہ آڈیو کلپ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی۔ مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والی ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) ایشوریہ بھاٹی نے سپریم کورٹ کو یہ اطلاع دی۔

سماعت کے دوران بھاٹی نے کہا کہ گجرات کے گاندھی نگر میں واقع نیشنل فارینسک یونیورسٹی نے آڈیو کلپ کی صداقت سے متعلق اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ریکارڈنگ میں کئی بار تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ انہوں نے درخواست کی کہ عرضی کو جرمانے کے ساتھ خارج کر دیا جائے۔

اس سے قبل سپریم کورٹ نے نیشنل فارینسک سائنس یونیورسٹی کو ہدایت دی تھی کہ وہ این بیرین سنگھ کے مبینہ آڈیو کلپ کی فارینسک جانچ کرے۔ سماعت کے دوران عرضی گزار کے وکیل پرشانت بھوشن نے کہا تھا کہ وہ مکمل آڈیو ریکارڈنگ عدالت کے ریکارڈ پر پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس سے قبل عرضی گزار نے تقریباً 48 منٹ کے آڈیو کلپ پر ہی اعتماد ظاہر کیا تھا۔ فارینسک یونیورسٹی نے 48 منٹ کے آڈیو کلپ کی اصلیت پر سوال اٹھائے تھے۔

منی پور میں مئی 2023 میں نسلی تشدد شروع ہوا تھا۔ یہ عرضی کوکی آرگنائزیشن فار ہیومن رائٹس ٹرسٹ کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ عرضی گزار کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل پرشانت بھوشن نے منی پور تشدد میں این بیرین سنگھ کے کردار کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ پرشانت بھوشن نے اس آڈیو کلپ کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں این بیرین سنگھ کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ میتیئی گروہ کو ریاستی حکومت کے ہتھیار اور گولہ بارود لوٹنے کی اجازت دی گئی تھی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande