
نئی دہلی، 7 اگست (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے چھتیس گڑھ کے سابق وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل کے خلاف دائر انتخابی عرضی کو ابتدائی مرحلے ہی میں خارج کرنے سے چھتیس گڑھ ہائی کورٹ کے انکار کو درست قرار دیا ہے۔ چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی والی بنچ نے بھوپیش بگھیل کی جانب سے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضی خارج کرنے کا حکم دیا۔
یہ انتخابی عرضی 2023 کے چھتیس گڑھ اسمبلی انتخابات سے متعلق ہے۔ ان انتخابات میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے پاٹن اسمبلی حلقے سے 95,438 ووٹ حاصل کرکے وجے بگھیل کو شکست دی تھی۔ وجے بگھیل نے چھتیس گڑھ ہائی کورٹ میں انتخابی عرضی دائر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ بھوپیش بگھیل نے ووٹنگ سے ایک روز قبل، یعنی 16-15 نومبر 2023 کو شام 5 بجے سے نافذ عوامی نمائندگی قانون کی دفعہ 126 کے تحت 48 گھنٹے کی خاموشی کی مدت کے دوران ایک ریلی یا روڈ شو منعقد کیا تھا۔
بھووپیش بگھیل نے چھتیس گڑھ ہائی کورٹ کے 15 جون کے اس عبوری حکم کو چیلنج کیا تھا، جس میں انتخابی عرضی کو ابتدائی مرحلے ہی میں خارج کرنے کی ان کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن