ہنگامہ آرائی کے درمیان لوک سبھا میں ایم ایس ایم ای ترمیمی بل منظور، پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی 10 اگست تک ملتوی
نئی دہلی، 7 اگست (ہ س)۔ اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان لوک سبھا نے جمعہ کو بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کی ترقی (ترمیمی)سے متعلق بل، 2026 کو صوتی ووٹوں سے منظور کر لیا۔ اس کے بعد مسلسل ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی کی وجہ سے لوک سبھا اور ر
PARLIAMENT-ADJOURNED-MSME-BILL


نئی دہلی، 7 اگست (ہ س)۔ اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان لوک سبھا نے جمعہ کو بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کی ترقی (ترمیمی)سے متعلق بل، 2026 کو صوتی ووٹوں سے منظور کر لیا۔ اس کے بعد مسلسل ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی کی وجہ سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی 10 اگست کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

لوک سبھا کی کارروائی شروع ہونے پر اسپیکر اوم برلا نے اراکین پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 9 اگست کو بھارت چھوڑو تحریک کی 84 ویں سالگرہ ہے۔ آج کے دن 1942 میں بابائے قوم مہاتما گاندھی نے ہم وطنوں کو ”کرو یا مرو“ کا منتر دیا تھا۔ بھارت چھوڑو تحریک قومی اتحاد، بے مثال ہمت اور سچائی اور عدم تشدد پر مبنی ناانصافی کے خلاف جدوجہد کی ایک لافانی علامت ہے۔ اس کے بعد اپوزیشن ارکان کے ہنگامہ آرائی کے باعث ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

جب دوپہر 12 بجے ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کے وزیر جیتن رام ماجھی کے ذریعہ پیش کیا گیا بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کی ترقی (ترمیمی) سے متعلق بل 2026 ہنگامہ آرائی کے درمیان منظور کر لیا گیا۔ یہ بل راجیہ سبھا سے پہلے ہی منظور ہو چکا تھا۔ ترمیم کے تحت عوامی شعبے کے مرکزی اداروں (سی پی ایس ای) کے ذریعہ انوائس کی ادائیگیوں کے تصفیہ کے لئےٹی آر ای ڈی ایس پلیٹ فارم کے استعمال کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ثالثی اور عدالتیکی کارروائی کے لیے 90 دن کی مدت مقرر کی گئی ہے۔ اگر کسی فیصلے کو چھ ماہ سے زیادہ وقت تک عدالت میں چیلنج کیا جاتا ہے، تو کم از کم 50 فیصد رقم متعلقہ ایم ایس ایم ای سپلائر کو جاری کرنے کی اس میں تجویز ہے۔ اس بل میں رضاکارانہ قومی ڈیجیٹل رجسٹریشن پلیٹ فارم، معمولی خلاف ورزیوں کو مجرمانہ قرار دینے اور سرمایہ کاری اور کاروبار کی بنیاد پر ایم ایس ایم ای کی درجہ بندی کے لیے ایک زیادہ مستحکم نظام بھی فراہم کیا گیا ہے۔

پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے احتجاج کے بارے میں کہا کہ اپوزیشن صبح سے ہی وزیر داخلہ امت شاہ کا نام لے کر نعرے بازی کر رہی ہے، حالانکہ وزیر داخلہ ہر روز پارلیمنٹ میں موجود رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں جس وزیر کی وزارت کا کام چل رہا ہوتاہے ، اسی وزیر کے ذیعہ سوالات کے جوابات دیا جاتا ہے اور یہ اپوزیشن طے نہیں کرے گا کہ کون وزیر کب آئے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن محض نعرے لگا کر ایوان کی کارروائی میں خلل ڈال رہی ہے۔

ایوان صدر دلیپ سیکیا نے اپوزیشن کے رویہ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ پوسٹرز اور بینرلے کر ایوان کی کارروائی میںرخنہ اندازی جمہوری روایات سے متصادم ہے۔ اس کے بعد انہوں نے لوک سبھا کی کارروائی 10 اگست کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی۔

اس دوران راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے بھارت چھوڑو تحریک کی 84 ویں سالگرہ کو یاد کرتے ہوئے جدوجہد آزادی کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کی قیادت میں شروع کی گئی بھارت چھوڑو تحریک ملک کی آزادی کی جدوجہد میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور حب الوطنی، اتحاد اور قومی خدمت کی ترغیب دیتی ہے۔

راجیہ سبھا میں بھی اپوزیشن کے ہنگامے کی وجہ سے پہلے کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو وقفہ سوالات کے دوران اپوزیشن نے وزیر داخلہ سے بیان دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے۔ حکمراں پارٹی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان جاری ہنگامہ آرائی کے درمیان پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ وزیر داخلہ صبح سے دیر رات تک پارلیمنٹ میں رہتے ہیں اور ایوان کا کام ایجنڈے کے مطابق ہوتا ہے۔ مسلسل خلل کی وجہ سے چیئرمین نے راجیہ سبھا کی کارروائی 10 اگست کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande