
نئی دہلی، 7 اگست(ہ س)۔ قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے مدھیہ پردیش کے ودیشا ضلع سے متعلق ایک وائرل ویڈیو کا ازخود نوٹس لیا ہے، جس میں کچھ طلبہ چیک ڈیم کے ستونوں پر چڑھ کر دریائے بیتوا کو پار کرتے ہوئے اسکول جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ کمیشن نے ریاست کے چیف سکریٹری کو نوٹس جاری کرکے دو ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔
میڈیا میں شائع رپورٹ کے مطابق ودیشا ضلع کے کاکراؤا گاؤں کے اسکولی طلبہ دریائے بیتوا کو عبور کرنے کے لیے ڈیم کے ستونوں پر چڑھ کر اپنی جان خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ طلبہ یہ خطرناک راستہ اس لیے اختیار کرتے ہیں کیونکہ اس راستے سے سڑک کے ذریعے طے ہونے والا 13 کلومیٹر کا فاصلہ کم ہوکر صرف 1.5 کلومیٹر رہ جاتا ہے۔اطلاعات کے مطابق گاؤں کے 9 طلبہ روزانہ اسی خطرناک طریقے سے دریا پار کرکے اسکول جاتے ہیں۔ اس دوران طلبہ کو نہ صرف تیز بہاؤ والے پانی بلکہ پھسلنے اور بلندی سے گرنے کے خطرے کا بھی سامنا رہتا ہے۔
قومی انسانی حقوق کمیشن کا کہنا ہے کہ بچوں کے اسکول پہنچنے کے لیے محفوظ ذرائع آمدورفت کی عدم دستیابی ان کے باوقار اور محفوظ تعلیم کے بنیادی حق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔رپورٹ کے مطابق ضلع تعلیم افسر نے جائے وقوعہ کا دورہ کرکے معاملے سے ضلع کلکٹر کو آگاہ کردیا ہے۔ تاہم دریا کو عبور کرنے کے لیے محفوظ راستہ تعمیر کرنے یا طلبہ کے لیے متبادل انتظام فراہم کرنے کے سلسلے میں ابھی تک کوئی مقررہ مدت نہیں بتائی گئی ہے۔کمیشن نے ریاستی حکومت سے اس معاملے میں کیے گئے اقدامات اور طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے قدم کی تفصیلی رپورٹ مقررہ مدت میں پیش کرنے کو کہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan