نیٹ پیپر لیک معاملہ: سی بی آئی نے عدالت میں دلائل پیش کیے، اگلی سماعت 10 اگست کو
نئی دہلی، 07 اگست (ہ س)۔ راؤز ایونیو کورٹ میں نیٹ پیپر لیک معاملے کی سماعت کرنے والی فاسٹ ٹریک عدالت میں جمعہ کو مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے چارج شیٹ پر نوٹس لینے کے معاملے میں اپنے دلائل پیش کیے۔ اسپیشل جج اجے گپتا نے اس معاملے کی اگلی سم
نیٹ پیپر لیک معاملہ: سی بی آئی نے عدالت میں دلائل پیش کیے، اگلی سماعت 10 اگست کو


نئی دہلی، 07 اگست (ہ س)۔

راؤز ایونیو کورٹ میں نیٹ پیپر لیک معاملے کی سماعت کرنے والی فاسٹ ٹریک عدالت میں جمعہ کو مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے چارج شیٹ پر نوٹس لینے کے معاملے میں اپنے دلائل پیش کیے۔ اسپیشل جج اجے گپتا نے اس معاملے کی اگلی سماعت 10 اگست مقرر کی ہے۔

عدالت نے سی بی آئی کے وکلا وی کے پاٹھک اور ارجن آنند کے دلائل سنے۔ سی بی آئی کی جانب سے کہا گیا کہ اس معاملے میں 12 مئی کو ایف آئی آر درج کی گئی تھی، جس کے فوراً بعد 72 افسران اور 8 سائبر فارنسک ماہرین کی مدد سے تحقیقات شروع کی گئیں۔

سی بی آئی نے مہاراشٹر، راجستھان، ہریانہ، دہلی اور دیگر ریاستوں میں 92 مقامات پر چھاپے مارے۔ اس معاملے میں پہلی گرفتاری 13 مئی کو کی گئی تھی۔

سی بی آئی نے 13 افراد کو ملزم بنایا ہے، جن میں یش یادو، مانگی لال بیوال، دنیش بیوال، وکاس بیوال، شبھم کھیرنار، دھننجے لوکھنڈے، پرہلاد کلکرنی، تیجس ہرشد کمار، ڈاکٹر منوج شرورے، شیوراج رگھوناتھ موٹے گاو¿ںکر، منیشا واگھمارے، منیشا مندھارے اور منیشا سنجے ہولدار شامل ہیں۔ یہ تمام ملزمان اس وقت عدالتی تحویل میں ہیں۔

سی بی آئی نے ان تمام افراد کے خلاف بھارتی نیائے سنہتا کی دفعات 315(5)، 318(4)، 61(2)، 238، 303(2)، انسدادِ بدعنوانی قانون کی دفعات 13(2) اور 13(1)(اے)، نیز پبلک ایگزامینیشن (پریوینشن آف انفئیر مینز) ایکٹ کی دفعات 3، 4، 5، 10 اور 11 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے 24 جولائی کو نیٹ پیپر لیک معاملے کی جلد سماعت کے لیے راو¿ز ایونیو کورٹ میں فاسٹ ٹریک عدالت قائم کرنے کا حکم دیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande