

مدھیہ پردیش کے دھار میں بھوج شالا احاطے کے عقب میں مقررہ مقام پر ہی نماز جمعہ ادا کی گئی
دھار، 07 اگست (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے ضلع دھار کے ہیڈکوارٹر پر واقع تاریخی بھوج شالا احاطے میں جمعہ کو ہندو فریق نے ہنومان چالیسہ کا پاٹھ کیا، جبکہ مسلمانوں نے احاطے کے پچھلے حصے کی دائیں جانب پہلے سے مقررہ مقام، خسرہ نمبر 612، پر نماز جمعہ ادا کی۔ نماز اور پوجا کے دوران امن و قانون برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ نے سیکورٹی کے وسیع انتظامات کیے تھے۔
بھوج شالا احاطے کے قریب نماز کے لیے مقام کے معاملے میں مسلم فریق کی عبوری عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت نہیں ہونے کے بعد ضلع انتظامیہ نے خسرہ نمبر 612 پر نماز کی ادائیگی کے لیے ضروری انتظامات کیے تھے۔ جمعہ کو دوپہر 1 سے 3 بجے کے درمیان مقررہ مقام پر نماز جمعہ ادا کی گئی۔ گزشتہ جمعہ کے مقابلے میں اس بار نماز کے لیے زیادہ تعداد میں لوگ پہنچے۔
انتظامیہ کی جانب سے نماز کے مقام پر سیکورٹی، آمد و رفت اور دیگر ضروری انتظامات کیے گئے تھے۔ گزشتہ بار بارش کے باعث راستے میں کیچڑ ہونے کے پیش نظر بلدیہ نے راستے پر گٹّی ڈال کر اسے ہموار کر دیا تھا۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ سچن شرما نے بتایا کہ امن و قانون برقرار رکھنے کے لیے پورے ضلع میں سیکورٹی کے وسیع انتظامات کیے گئے تھے۔ نماز کے مقام اور بھوج شالا احاطے کے اطراف بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ حساس علاقوں میں اضافی نفری تعینات کرنے کے ساتھ مسلسل نگرانی بھی کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ پورے شہر میں تقریباً 1000 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔
سیکورٹی انتظامات کے تحت بیریکیڈنگ کرکے بسلیری مارگ کو بند رکھا گیا اور بھوج شالا احاطے کے اطراف آمد و رفت کو محدود کر دیا گیا۔ پولیس اور انتظامیہ کے سینئر افسران بھی موقع پر موجود رہے۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ پہلے نشان زد کیے گئے دیگر مقامات پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا تھا۔ انہوں نے ضلع کے باشندوں سے امن و بھائی چارہ برقرار رکھنے اور امن و قانون کے قیام میں تعاون کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے لوگوں سے افواہوں پر توجہ نہیں دینے کی بھی درخواست کی۔
بھوج شالا سے متعلق طویل عرصے سے جاری قانونی تنازعہ کے درمیان 15 مئی 2026 کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے بھوج شالا کو واگ دیوی کا مندر قرار دیا تھا۔ اس حکم کو چیلنج کرتے ہوئے مسلم فریق کی جانب سے سپریم کورٹ میں عرضیاں دائر کی گئی ہیں۔
مسلم فریق کی جانب سے دائر 4 عرضیوں پر 5 اگست کو جسٹس سنجے کمار اور جسٹس سنجیو سچ دیوا کی بنچ کے روبرو سماعت مقرر تھی، لیکن سماعت نہیں ہو سکی۔ فی الحال آئندہ سماعت کی تاریخ سامنے نہیں آئی ہے۔
اس معاملے میں ہندو فرنٹ فار جسٹس کی جانب سے ایڈووکیٹ وشنو شنکر جین، ایڈووکیٹ ونئے جوشی سمیت دیگر وکلا فریق کی نمائندگی کریں گے۔ تنظیم کی قومی صدر ایڈووکیٹ رنجنا اگنی ہوتری، آشیش گوئل، آشیش جنک، موہت گرگ اور سنیل سارسوت سمیت دیگر کو اس مقدمے میں مدعا علیہ بنایا گیا ہے۔
ہندو فرنٹ فار جسٹس کے ضلع دھار صدر کنہیا لال یادو اور شہر صدر منیش مکوانا نے بتایا کہ تنظیم اس مقدمے کی سماعت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
بھوج شالا سے متعلق مقدمہ طویل عرصے سے عدالت میں زیر سماعت ہے۔ آئندہ سماعت میں عبوری انتظامات کے حوالے سے صورت حال واضح ہونے کی امید ہے۔ مقدمے کی حساسیت کے پیش نظر انتظامیہ نے سیکورٹی انتظامات کے سلسلے میں مکمل چوکسی برتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن