
نئی دہلی، 7 اگست (ہ س)۔ حکومت نے جمعہ کو راجیہ سبھا کو بتایا کہ ادھم پور-سری نگر-بارہمولہ ریل لنک (یو ایس بی آر ایل) پروجیکٹ کے شروع ہونے سے وادی کشمیر کو باقی ملک کے ساتھ ہر موسم میں ریل رابطہ مل گیا ہے۔ اس سے مقامی مصنوعات جیسے سیب، خشک میوہ جات، پشمینہ شالوں اور دستکاری کو قومی منڈی تک رسائی حاصل ہوئی ہے اور کسانوں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) اور مقامی کاروباروں کو ایک نئی تحریک ملی ہے۔
ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو نے راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ 272 کلومیٹر طویل یو ایس بی آر ایل پروجیکٹ کی تکمیل کے ساتھ جموں و کشمیر کے ادھم پور، ریاسی، رامبن، سری نگر، اننت ناگ، پلواما، بڈگام اور بارہمولہ اضلاع کو ہندوستانی ریلوے نیٹ ورک سے جوڑا گیا ہے۔ کٹرا سے سری نگر کے درمیان سفر کا وقت کم کر کے تقریبا تین گھنٹے کر دیا گیا ہے، جس سے سیاحت اور اقتصادی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ پروجیکٹ آزادی کے بعد سے ملک کے مشکل ترین ریلوے پروجیکٹوں میں سے ایک رہا ہے۔ اس کے تحت ریاسی ضلع میں دریائے چناب پر دنیا کا سب سے اونچا ریلوے پل بنایا گیا ہے، جس کی اونچائی دریا کے کنارے سے 359 میٹر ہے۔ اسی پروجیکٹ میں انجئی کھڑ پر ہندوستانی ریلوے کا پہلا کیبل پر قائم ریل پل بھی تعمیر کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے دوران مقامی لوگوں کی سہولت کے لیے تقریبا 215 کلومیٹر سڑکیں، کئی پل اور سرنگیں بھی تعمیر کی گئیں۔
حکومت نے بتایا کہ جموں-ریاسی-پونچھ اور جموں-شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا کے درمیان 190 کلومیٹر نئی ریلوے لائن کے لیے حتمی لوکیشن سروے (ایف ایل ایس) کو جموں و کشمیر میں ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع کے لیے منظوری دے دی گئی ہے۔ جالندھر کینٹ-جموں توی III ریل لائن کے لیے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) تیار کر لی گئی ہے۔
جموں و کشمیر میں گتی شکتی ملٹی ماڈل کارگو ٹرمینل (جی سی ٹی) پالیسی کے تحت سامبا ضلع میں ایک کارگو ٹرمینل شروع کیا گیا ہے، جبکہ کٹھوعہ، اننت ناگ اور جموں میں تین نئے جی سی ٹی کے لیے اصولی منظوری دی گئی ہے۔
حکومت نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں چار ریلوے اسٹیشن-بڈگام، جموں توی، شہید کیپٹن تشار مہاجن اور شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا-کو امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت دوبارہ تیار کیا جا رہا ہے۔ بڈگام، جموں توی اور شہید کیپٹن تشار مہاجن اسٹیشنوں پر مختلف ترقیاتی کام جاری ہیں، جبکہ شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا اسٹیشن کے لیے ماسٹر پلان تیار کیا جا رہا ہے۔
حکومت کے مطابق جموں و کشمیر کے پورے براڈ گیج ریل نیٹ ورک کی برق کاری مکمل ہو چکی ہے اور تمام نئی ریل لائنوں اور ملٹی ٹریکنگ پروجیکٹوں کو برقی بنایا جا رہا ہے۔ حفاظت کو بڑھانے کے لیے الیکٹرانک انٹر لاکنگ، ٹریک سرکٹنگ اور بلاک پروفنگ ایکسل کاو¿نٹرز جیسے جدید سگنلنگ سسٹم کو بڑھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، کٹھوعہ-جموں توی، جموں توی-کٹرا، کٹرا-بنیہال اور بنیہال-بارہمولہ سیکشنز سمیت تقریبا 401 روٹ کلومیٹر پر مقامی ٹرین پروٹیکشن سسٹم 'کوچ' کی تنصیب کے لیے کام کی منظوری دی گئی ہے۔
حکومت نے کہا کہ جموں و کشمیر میں مسافروں کی سہولت کے لیے وندے بھارت ایکسپریس خدمات کے چار جوڑے چلائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا-بڈگام ایکسپریس شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور درگ، اندور اور دیگر مقامات سے چلنے والی کچھ ٹرینوں کو ادھم پور تک بڑھا دیا گیا ہے۔
وزیر نے بتایا کہ نئی ریل خدمات کا تعارف ایک مسلسل عمل ہے اور اس کا فیصلہ مختلف آپریشنل پہلوو¿ں جیسے متعلقہ سیکشن کی صلاحیت، دستیاب روٹ، رولنگ اسٹاک، دیکھ بھال کی ضرورت اور مسافروں کی مانگ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی