
نئی دہلی، 07 اگست (ہ س):۔
مرکزی حکومت نے جمعہ کے روز لوک سبھا میں کہا کہ پاکستان کے ساتھ معمول کے دوطرفہ تعلقات اسی وقت ممکن ہیں جب وہ سرحد پار دہشت گردی، دشمنی اور تشدد سے پاک ماحول کو یقینی بنائے۔ حکومت نے واضح کیا کہ سرحد پار دہشت گردی اور اس سے وابستہ ڈھانچے کا خاتمہ بھارت کی واضح اور غیر متزلزل پالیسی ہے۔
وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں کہا کہ پاکستان کے ساتھ بھارت کے تعلقات صرف اسی صورت میں آگے بڑھ سکتے ہیں جب ماحول دہشت گردی، دشمنی اور تشدد سے پاک ہو۔ تاہم پاکستان کی سرپرستی میں سرحد پار دہشت گردی اب بھی جاری ہے اور دہشت گردی کو بھارت کے خلاف سرکاری پالیسی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
حکومت نے بتایا کہ پلوامہ دہشت گرد حملے کے بعد بھارت نے پاکستان سے 'موسٹ فیورڈ نیشن' (ایم ایف این) کا درجہ واپس لے لیا تھا اور پاکستان سے درآمد ہونے والی تمام اشیا پر کسٹم ڈیوٹی بڑھا کر 200 فیصد کر دی تھی۔ اس کے بعد پاکستان نے بھی بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے اور دوطرفہ تجارت معطل کرنے جیسے یکطرفہ اقدامات کیے۔
تحریری جواب میں مزید کہا گیا کہ 22 اپریل 2025 کو پاکستان کی سرپرستی میں پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد بھارت نے متعدد سفارتی اقدامات کیے، جن میں سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا، اٹاری سرحدی چیک پوسٹ بند کرنا، ویزا خدمات روکنا اور دونوں ممالک کے سفارتی مشنز میں اہلکاروں کی تعداد کم کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او کے) میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف فوجی کارروائی بھی کی گئی۔
حکومت نے بتایا کہ اس وقت دونوں ممالک کے دارالحکومتوں میں محدود سطح پر سفارتی مشنز کام کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان صرف ضروری نوعیت کے سرکاری روابط برقرار ہیں، جن میں فوجی کارروائیوں کے ڈائریکٹر جنرلز (ڈی جی ایم اوز) کی سطح پر بات چیت، بیلسٹک میزائل تجربات کی پیشگی اطلاع کا تبادلہ، جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ، اور ایک دوسرے کی تحویل میں موجود ماہی گیروں اور شہری قیدیوں کی معلومات کا تبادلہ شامل ہے۔
حکومت نے کہا کہ بھارت نے سرحد پار دہشت گردی اور اس سے وابستہ ڈھانچے کے حوالے سے اپنی پالیسی پوری طرح واضح کر دی ہے اور اپنے شہریوں کی سلامتی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔ حکومت کے مطابق پاکستان کے ساتھ معمول کے دوطرفہ تعلقات کی بحالی کے لیے سرحد پار دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ناگزیر شرط ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ