
نئی دہلی، 7 اگست (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے حکومت سے پوچھا ہے کہ وہ جنتر منتر علاقے کو احتجاج کی جگہ کے طور پر بند کرنے پر غور کیوں نہیں کر رہی۔ جسٹس امت مہاجن کی بنچ نے کہا کہ شہر کے عین وسط میں ہونے والے ایسے احتجاج کی وجہ سے شہر کو بلاوجہ یرغمال نہیں بنایا جانا چاہیے۔
ہائی کورٹ نے یہ تبصرہ آل انڈیا دلت کرسچین رائٹس پروٹیکشن کمیٹی کی عرضی پر سماعت کے دوران کیا۔ عرضی میں دہلی پولیس کو جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت مانگنے والی درخواست پر فیصلہ کرنے کی ہدایت دینے کی گزارش کی گئی تھی۔
سماعت کے دوران عرضی گزار کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل سنجے گھوش نے کہا کہ پولیس نے نہ تو درخواست مسترد کی ہے اور نہ ہی اسے منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ 75 افراد آئیں گے، لیکن دہلی پولیس جولائی سے عرضی گزار کی درخواست پر کوئی فیصلہ نہیں کر رہی۔ نہ ہی اسے مسترد کیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) چیتن شرما سے پوچھا کہ آپ جنتر منتر کو بند کیوں نہیں کر دیتے؟ میری رائے میں شہر میں ایسی چیزیں نہیں ہونی چاہئیں، لیکن یہ فیصلہ حکومت کو کرنا ہے۔ شہر کو بلاوجہ یرغمال کیوں بنایا جائے؟ اس پر چیتن شرما نے کہا کہ سپریم کورٹ کا بھی ایسا ہی حکم ہے۔
سپریم کورٹ بھی ایک عرضی پر غور کر رہی ہے کہ آیا جنتر منتر کو احتجاج کے لیے مستقل مقام مقرر کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اس پر جسٹس مہاجن نے کہا کہ میری رائے میں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے بعد عرضی گزار کے وکیل گھوش نے سوال کیا کہ کیا مرکز کا موقف یہ ہے کہ دہلی میں کوئی احتجاج نہیں ہو سکتا؟ گھوش نے کہا کہ سپریم کورٹ نے شاہین باغ معاملے میں کہا تھا کہ پرامن احتجاج کرنا ایک حق ہے۔ اس پر جسٹس مہاجن نے کہا، ’’ بالکل، لیکن شہر کو یرغمال بھی نہ بنائیں۔ ‘‘
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن