دہلی کابینہ نے پرائیویٹ یونیورسٹیز بل کو منظوری دے دی
نئی دہلی، 07 اگست (ہ س)۔ دہلی کابینہ نے جمعہ کو ''دہلی پرائیویٹ یونیورسٹیز بل-2026'' کو منظوری دے دی۔ اس بل کو دہلی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور وہاں سے منظوری اور قانون بننے کے بعد دہلی میں نجی یونیورسٹیوں کے قیام کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ و
دہلی کابینہ نے پرائیویٹ یونیورسٹیز بل کو منظوری دے دی


نئی دہلی، 07 اگست (ہ س)۔

دہلی کابینہ نے جمعہ کو 'دہلی پرائیویٹ یونیورسٹیز بل-2026' کو منظوری دے دی۔ اس بل کو دہلی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور وہاں سے منظوری اور قانون بننے کے بعد دہلی میں نجی یونیورسٹیوں کے قیام کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

وزیراعلیٰ ریکھا گپتا کی صدارت میں منعقدہ کابینہ اجلاس میں اس بل کی منظوری دی گئی۔ دہلی حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کے نافذ ہونے سے دارالحکومت میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں توسیع ہوگی، گریجویشن اور دیگر کورسز میں نشستوں کی تعداد بڑھے گی اور طلبہ کو اپنی پسند کے اداروں میں معیاری تعلیم حاصل کرنے کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔ اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے دہلی سے باہر جانے کی ضرورت بھی کم ہو جائے گی۔

ماحولیات و صنعت کے وزیر منجیندر سنگھ سرسا نے دہلی اسمبلی کے مانسون اجلاس کے آغاز کے موقع پر اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعلیٰ ریکھا گپتا اور وزیر تعلیم آشیش سود کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ دہلی کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں ایک تاریخی قدم ہے، جو آنے والے برسوں میں تعلیم، تحقیق، اختراع اور علم پر مبنی معیشت کو نئی سمت دے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ صرف نئی یونیورسٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ نہیں بلکہ نوجوانوں کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ حکومت کا مقصد دہلی کو ملک کا نمایاں تعلیمی اور تحقیقی مرکز بنانا ہے، جہاں طلبہ کو عالمی معیار کا تعلیمی ماحول میسر ہو۔

سرسا نے کہا کہ ہر سال دہلی میں تقریباً تین لاکھ پچیس ہزار طلبہ بارہویں جماعت پاس کرتے ہیں، جبکہ باقاعدہ گریجویشن کورسز میں صرف تقریباً ڈیڑھ لاکھ نشستیں دستیاب ہیں۔ ایسے میں نجی یونیورسٹیوں کے قیام سے اعلیٰ تعلیم میں نشستوں کی کمی دور کرنے میں مدد ملے گی اور طلبہ کو دارالحکومت میں ہی بہتر تعلیمی مواقع حاصل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کی جانب سے مبینہ سائیکل گھوٹالہ اور صحت گھوٹالہ جیسے الزامات لگائے جا رہے ہیں، لیکن آج تک ان الزامات کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد دستاویز یا ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ برسوں تک دہلی پر حکومت کرتے رہے، وہ آج ترقیاتی کاموں کو تسلیم کرنے کے بجائے صرف عوام میں الجھن پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دہلی حکومت نے مانسون سے پہلے وسیع پیمانے پر تیاریاں کیں، جس کے نتیجے میں برسوں سے آبی جماو¿ کی علامت سمجھے جانے والے منٹو برج جیسے مقامات پر بھی اس بار نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔

سرسا نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کو بے بنیاد الزامات اور سیاسی ڈرامہ بازی کے بجائے اسمبلی میں عوامی مسائل پر بحث کرنی چاہیے۔ اگر اپوزیشن کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت ہے تو اسے ایوان کے سامنے پیش کرے، لیکن جھوٹ اور گمراہ کن مہم کے ذریعے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande