
ملک کو قابل اور بااعتماد وزیر تعلیم کی ضرورت ہے: پرتھوی راج چوہانممبئی، 7 اگست (ہ س)۔ مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد کہا ہے کہ ملک کو اب ایک ایسے کل وقتی وزیر تعلیم کی ضرورت ہے جو باصلاحیت، بااعتماد اور قومی سطح پر قابل قبول ہو۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں مرکزی حکومت کی تعلیمی پالیسی اور قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں تعلیمی نظام کو نئی سمت دینے کے لیے مؤثر قیادت ناگزیر ہے۔ پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ کاکروچ جنتا پارٹی اور جنریشن زیڈ کی تاریخی تحریک کے بعد دھرمیندر پردھان کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔ فی الحال وزارت تعلیم کا اضافی چارج پرہلاد جوشی کے سپرد کیا گیا ہے، لیکن یہ صرف عارضی انتظام ہے، اس لیے جلد از جلد مستقل وزیر تعلیم کی تقرری ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ مرکزی کابینہ میں ایسا کوئی قومی سطح کا رہنما دکھائی نہیں دیتا جو جنریشن زیڈ کے نوجوانوں سے مؤثر انداز میں رابطہ قائم کر سکے، تعلیمی شعبے کو نئی توانائی دے سکے اور تعلیم کے لیے زیادہ مالی وسائل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ پرتھوی راج چوہان نے یہ بھی کہا کہ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو دہلی بلا کر وزیر تعلیم بنائے جانے کی قیاس آرائیاں جاری ہیں، تاہم ان کے مطابق نہ تو جنریشن زیڈ انہیں قبول کرے گی اور نہ ہی کانگریس۔ انہوں نے کہا کہ 2026 کے نیٹ پرچہ لیک معاملے میں مہاراشٹر کے بعض کوچنگ اداروں اور سوالنامہ تیار کرنے والوں کے نام سامنے آئے تھے۔ اس وقت دیویندر فڑنویس ریاست کے وزیر داخلہ بھی تھے، اس لیے ان کی ذمہ داری کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں مہاراشٹر کی برسراقتدار جماعت کے بعض سیاسی رہنماؤں کا کوئی کردار تھا یا نہیں، اس کا فیصلہ صرف خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی جانچ کے بعد ہی ہو سکے گا۔ سابق وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں قابلیت کے بجائے نظریاتی وابستگی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق نئے وزیر تعلیم کے طور پر کسی ممتاز ماہر تعلیم، سابق وائس چانسلر، سینئر انتظامی افسر یا کارپوریٹ شعبے کے تجربہ کار فرد پر غور کیا جانا چاہیے، تاکہ ملک کے تعلیمی نظام کو مؤثر، معیاری اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے