
گوہاٹی، 7 اگست (ہ س)۔ آسام ابھی سیلاب کی تباہ کاریوں سے پوری طرح باہر بھی نہیں نکل پایا ہے کہ ریاست کے کئی علاقوں میں ایک بار پھر خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ بالائی آسام کے بنیادی طور پر چار اضلاع شیوساگر، چرائیدیو، جورہاٹ اور گولاگھاٹ شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ریاستی حکومت کے وزرا اضلاع میں میٹنگز کرکے راحت اور بازآبادکاری کے کاموں میں تیزی لانے کے لیے جائزہ لے رہے ہیں۔ متاثرہ اور تباہ شدہ مکانات کا سروے 9 اگست سے شروع کیا جائے گا۔ حکومت نے ابتدائی طور پر ہر متاثرہ خاندان کو 15 ہزار روپے کی مالی مدد فراہم کی ہے، جبکہ ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو 9 لاکھ روپے کی امدادی رقم دی جا رہی ہے۔
ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے 6 اگست کے اعداد و شمار کے مطابق دھنسری ندی (نوملی گڑھ)میں پانی کی سطح خطرے کے نشان سے اوپر پہنچ گئی ہے۔ اس دوران راحت اور بچاؤ کارروائی کے دوران جمعرات کو گولاگھاٹ ضلع میں ایک اور اودالگوری ضلع میں ایک لاش برآمد کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی ریاست میں سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 96 ہوگئی ہے۔
اس وقت سیلاب سے ریاست کے 15 اضلاع متاثر ہیں۔ متاثرہ اضلاع میں گولاگھاٹ، شیوساگر، اودالگوری، کامروپ (میٹرو)، ناگاؤں، کامروپ، درانگ، سونت پور، ہوجائی، لکھیم پور، بشوناتھ، جورہاٹ، چرائیدیو، کاربی آنگلونگ اور دھیمائی شامل ہیں۔ ان اضلاع کے 39 ریونیو سرکلوں کے 481 گاؤں متاثر ہوئے ہیں۔ اس وقت ریاست کی مجموعی 1,68,701 آبادی سیلاب سے متاثر ہے، جبکہ 14,382.26 ہیکٹر زرعی اراضی پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔
متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے اب بھی 50 راحتی کیمپ اور 83 راحتی تقسیم مراکز کام کر رہے ہیں۔ راحتی کیمپوں میں 10,111 افراد نے پناہ لے رکھی ہے، جبکہ تقسیم مراکز سے 35,596 ایسے افراد امداد حاصل کر رہے ہیں جو کیمپوں میں مقیم نہیں ہیں۔
حکام کے مطابق سیلاب سے 38 کچے مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں، جن میں تمام کیسز شیوساگر ضلع میں درج کیے گئے ہیں۔ اسی طرح شیوساگر ضلع میں 2 پکے مکانات بھی مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں، جبکہ 285 کچے مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
ریاست کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں کے لیے ایس ڈی آر ایف، فوج، نیم فوجی دستے، این ڈی آر ایف، ڈی ڈی آر ایف، فضائیہ، پولیس، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز، سرکل دفاتر، مقامی انتظامیہ، سول ڈیفنس، تربیت یافتہ رضاکار اور فائر سروسز کے اہلکار مسلسل مصروف ہیں۔سیلاب سے بڑے پیمانے پر سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ہر ممکن مدد پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan