اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ نے چینی فوج کی دراندازی کی خبروں کو مسترد کر دیا
ایٹا نگر، 7 اگست (ہ س) ۔ اروناچل پردیش کے وزیر اعلی پیما کھانڈو نے ریاست میں چینی فوج کی دراندازی کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مقامی باشندوں، انڈین آرمی، اور ویلفیئر سوسائٹی سے بات کرکے ان دعوو¿ں کی تصدیق کریں گے۔
اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ نے چینی فوج کی دراندازی کی خبروں کو مسترد کر دیا


ایٹا نگر، 7 اگست (ہ س) ۔

اروناچل پردیش کے وزیر اعلی پیما کھانڈو نے ریاست میں چینی فوج کی دراندازی کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مقامی باشندوں، انڈین آرمی، اور ویلفیئر سوسائٹی سے بات کرکے ان دعوو¿ں کی تصدیق کریں گے۔

نامہ نگاروں کے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ کھانڈو نے کہا کہ وہ کوئی بھی بیان دینے سے پہلے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے قریب چینی فوج کی مبینہ سرگرمیوں کے بارے میں مزید معلومات اکٹھا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ کوئی دراندازی ہوئی ہے، کیونکہ وہاں ہندوستانی فوج کے اہلکار تعینات تھے۔

وزیر اعلیٰ کا یہ بیان اس وقت آیا جب ناہ ویلفیئر سوسائٹی نے ہندوستان-چین سرحد پر ٹاکسنگ کے قریب چینی فوج کی مبینہ سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور اس واقعے کی رپورٹیں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ سوسائٹی نے دعویٰ کیا کہ ہندوستانی فوج نے گزشتہ ماہ کے دوران علاقے میں اپنی تعیناتی میں اضافہ کیا ہے اور حال ہی میں ہندوستانی فوجیوں کا چینی اہلکاروں سے سامنا ہوا ہے۔ یہ سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ اروناچل پردیش کے وزیر داخلہ ایم ناٹنگ نے بھی چینی دراندازی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں افواہیں قرار دیا تھا اور میڈیا پر زور دیا تھا کہ وہ ایسی خبریں شائع کرنے سے پہلے ان کی سچائی کی تصدیق کریں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande