
نئی دہلی، 31 اگست (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے ہندوستان آکر شمال مشرق کے نسلی گروہوں کو ٹریننگ دینے کے الزام میں گرفتار یوکرینی شہریوں کی تفتیش کی مدت 90 دن سے بڑھا کر 180 دن کرنے کے ٹرائل کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے والی عرضی خارج کر دی ہے۔ جسٹس مدھو جین کی بنچ نے عرضی خارج کرنے کا حکم دیا۔ ہائی کورٹ نے 24 اگست کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔
عرضی ہربا پیٹرو سمیت دیگر ملزم یوکرینی شہریوں نے دائر کی تھی۔ سماعت کے دوران قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے پیش وکیل راہل تیاگی نے کہا تھا کہ ٹرائل کورٹ نے قانونی طور پر درست فیصلہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس معاملے میں تفتیش جاری ہے اور عدالت کو تفتیش کی مدت بڑھانے کا اختیار حاصل ہے۔
ان غیر ملکی شہریوں پر الزام ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر میانمار میں داخل ہوئے اور میزورم کے محفوظ علاقوں میں داخل ہو کر نسلی گروہوں سے رابطہ قائم کیا۔ ان پر غیر قانونی ہتھیاروں کی سپلائی کرنے، نسلی گروہوں کو ٹریننگ دینے اور انہیں ڈرون چلانے میں مدد فراہم کرنے کا الزام ہے۔
ان سات غیر ملکیوں میں چھ یوکرینی شہری اور ایک امریکی شہری شامل ہے۔ این آئی اے کے مطابق یہ غیر ملکی ویزا پر ہندوستان آئے اور اس کے بعد میزورم میں داخل ہوئے، جو ایک محفوظ علاقہ ہے۔ اس کے بعد وہ میانمار میں داخل ہوئے اور نسلی جنگجو گروہوں سے رابطہ قائم کیا۔ این آئی اے کے مطابق ان غیر ملکی شہریوں کو میانمار میں ٹریننگ دی گئی تھی، جس کے بعد وہ نسلی جنگجو گروہوں کو تربیت دے رہے تھے۔ یہ گروہ ہندوستان میں سرگرم باغی گروہوں سے وابستہ ہیں۔ یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ وہ یورپ سے ڈرونز کی ایک بڑی کھیپ لے کر آئے تھے۔ این آئی اے نے ان کے خلاف یو اے پی اے کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد