
نئی دہلی، 31 اگست (ہ س):۔
کانگریس نے مرکزی حکومت کی ’سمندر منتھن‘ اسکیم پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ اسکیم کے تحت حکومت نجی کمپنیوں کے تیل اور گیس کی تلاش کے خطرات کو سرکاری فنڈز کے ذریعے کم کرنے جارہی ہے، جبکہ ملک کی سرکاری شعبے کی اہم توانائی کمپنی او این جی سی کے پاس اس شعبے میں کئی دہائیوں کا تجربہ ہے۔ کانگریس نے اسکیم کے لیے مجوزہ 84,084 کروڑ روپے کی رقم او این جی سی کو دینے اور اس کے ذریعے تیل و گیس کی تلاش اور روزگار کے مواقع بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس کے ترجمان شکتی سنگھ گوہل نے پیر کو یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ مرکزی حکومت نے حال ہی میں ’سمندر منتھن‘ اسکیم کو منظوری دی ہے۔ اسکیم کے پہلے مرحلے کے لیے 84,084 کروڑ روپے کی بڑی رقم خرچ کرنے کی تجویز ہے اور حکومت گہرے سمندر میں تیل و گیس کی تلاش سے متعلق اخراجات کا 50 فیصد تک برداشت کرے گی۔
گوہل نے دعویٰ کیا کہ اس اسکیم سے اڈانی گروپ سے وابستہ اڈانی ویل اسپن ایکسپلوریشن لمیٹڈ (اے ڈبلیو ای ایل) کو بھی فائدہ ہوگا۔ اڈانی گروپ کی کمپنی میں 65 فیصد حصہ داری ہے، جبکہ باقی 35 فیصد حصہ داری ویل اسپن گروپ کے پاس ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی مالی مدد سے کمپنی گہرے سمندر میں کنوو¿ں کی ڈرلنگ، 2ڈی اور 3ڈی زلزلہ سروے، موجودہ ارضیاتی اعداد و شمار کی دوبارہ پروسیسنگ اور سمندری بنیادی ڈھانچے سے متعلق کام کرسکے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اسکیم کا مقصد تیل و گیس کی تلاش میں خطرات کم کرنا اور نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا بتایا ہے۔ اس خطرے کو کم کرنے کے لیے سرکاری رقم نجی کمپنیوں کے لیے کیوں استعمال کی جارہی ہے؟ ملک میں گھریلو تیل اور گیس کی پیداوار بڑھانا ضروری ہے، لیکن اس کے لیے او این جی سی جیسی سرکاری شعبے کی کمپنی کو ترجیحی کردار دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ گہرے سمندر میں ایک تیل کے کنویں کی تلاش پر اوسطاً 1,100 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے لاگت کا 50 فیصد تک برداشت کیے جانے سے نجی کمپنیوں کے لیے تیل و گیس کی تلاش کا مالی خطرہ کافی حد تک کم ہوجائے گا۔ اگر تلاش کامیاب رہتی ہے تو اس سے ہونے والے منافع کا بڑا حصہ متعلقہ نجی کمپنی کو ملے گا، جبکہ خطرے کا ایک حصہ ٹیکس دہندگان کی رقم سے برداشت کیا جائے گا۔
گوہل نے کہا کہ اے ڈبلیو ای ایل کو ممبئی آف شور بیسن، تاپی-دمن اور کچھ کے علاقوں میں مختلف بلاکس میں تیل و گیس کی تلاش کے حقوق حاصل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کمپنی آنے والے مہینوں میں بڑے پیمانے پر تیل اور گیس کی تلاش شروع کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ کانگریس نے ان دعوو¿ں کی بنیاد پر حکومت سے اسکیم کی ساخت اور اس سے فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں کے بارے میں مزید وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ