
جموں, 30 اگست (ہ س)۔
گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈوڈہ کے پرنسپل ڈاکٹر دیوراج ڈوگرا نے رضاکارانہ سبکدوشی (وی آر ایس) کے لیے درخواست دے دی ہے، جس کے بعد ڈوڈہ سمیت جموں و کشمیر کے نئے میڈیکل کالجوں میں پرنسپل کی تقرری کا مسئلہ ایک بار پھر نمایاں ہوگیا ہے۔جی ایم سی ڈوڈہ میں 2020 میں پہلا تعلیمی سیشن شروع ہوا تھا اور گزشتہ چھ برس کے دوران اب تک تین پرنسپل اپنی مدت مکمل ہونے سے پہلے عہدہ چھوڑنے کی خواہش ظاہر کرچکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پہلے پرنسپل ڈاکٹر طارق آزاد تھے، جنہوں نے اپنی مدت مکمل کی۔ بعد ازاں ڈاکٹر نور علی نے چند ماہ تک ذمہ داری سنبھالی۔ اس کے بعد جی ایم سی جموں کے شعبہ پریوینٹو اینڈ سوشل میڈیسن کے سربراہ ڈاکٹر دنیش کمار کو اضافی چارج دیا گیا، تاہم انہوں نے قبل از وقت سبکدوشی اختیار کرلی۔
بعد میں سپر اسپیشلٹی اسپتال کے شعبہ اینستھیزیا کی سربراہ ڈاکٹر پوجا ویمیش کو اضافی چارج سونپا گیا، لیکن انہوں نے بھی صحت کی وجوہات کی بنا پر عہدہ چھوڑ دیا۔
اس کے بعد ڈاکٹر راکیش بہال پرنسپل بنے اور اپنی مدت مکمل کی۔
اب شری مہاراجہ گلاب سنگھ اسپتال کے شعبہ امراض جلد کے سربراہ ڈاکٹر دیوراج ڈوگرا کو جی ایم سی ڈوڈہ کا اضافی چارج دیا گیا تھا، تاہم انہوں نے بھی وی آر ایس کے لیے درخواست دے دی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جی ایم سی کٹھوعہ اور راجوری میں بھی پرنسپل کی جانب سے مدت مکمل ہونے سے قبل تبادلہ یا عہدہ چھوڑنے کے واقعات سامنے آچکے ہیں۔ بعض سینئر پروفیسرز دور دراز کے میڈیکل کالجوں میں پرنسپل کی ذمہ داری سنبھالنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
جی ایم سی جموں کے بعض سینئر پروفیسرز کا کہنا ہے کہ پرنسپل کی تقرری کے لیے واضح پالیسی کا فقدان ہے۔ ان کے مطابق صرف سینئرٹی کی بنیاد پر کسی پروفیسر کو پرنسپل مقرر کرنا ضروری نہیں کہ وہ انتظامی طور پر بھی بہترین ثابت ہو۔پروفیسرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پرنسپل کی تقرری کے لیے واضح پالیسی وضع کی جائے، جس میں سینئرٹی کے ساتھ انتظامی صلاحیت، ادارے کی ضروریات اور متعلقہ پروفیسر کی رضامندی کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر