مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیرِ اہتمام پنّا میں ’’سلسلہ اور تلاشِ جوہر‘‘ کے تحت ادبی و شعری نشست کا انعقاد
بھوپال، 30 اگست (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اردو اکادمی، سنسکرتی پریشد، محکمہ ثقافت کے زیرِ اہتمام ضلع ادب گوشہ، پنا کے ذریعے ’’سلسلہ اور تلاشِ جوہر‘‘ کے تحت ادبی و شعری نشست کا انعقاد 30 اگست 2026 کو دوپہر 2.00 بجے مہارانی درگا راجیہ لکشمی ہائر سیکنڈ
پروگرام میں شامل شرکا


بھوپال، 30 اگست (ہ س)۔

مدھیہ پردیش اردو اکادمی، سنسکرتی پریشد، محکمہ ثقافت کے زیرِ اہتمام ضلع ادب گوشہ، پنا کے ذریعے ’’سلسلہ اور تلاشِ جوہر‘‘ کے تحت ادبی و شعری نشست کا انعقاد 30 اگست 2026 کو دوپہر 2.00 بجے مہارانی درگا راجیہ لکشمی ہائر سیکنڈری اسکول، پنا میں ضلع کوآرڈینیٹر سریش سوربھ کے تعاون سے کیا گیا۔

پنا میں منعقدہ ’’سلسلہ‘‘ پروگرام کے لیے مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ ’’پنا میں منعقد ہونے والے پروگرام ’سلسلہ اور تلاشِ جوہر‘ میں اس بار ’سلسلہ‘ کا موضوع ’اردو شاعری اور ادب میں سماجی ہم آہنگی‘ رکھا گیا ہے۔ اردو شاعری نے ہمیشہ انسانیت، باہمی بھائی چارے، خیر سگالی اور یگانگت کی مشترکہ وراثت کو ایک توانا اور پُراثر آواز دی ہے۔ اس آواز کو ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے دور دراز کے علاقوں تک پہنچانے کے لیے مدھیہ پردیش اردو اکادمی، محکمہ ثقافت مسلسل کوشاں اور پُرعزم ہے۔

ہماری ان کوششوں کے مثبت اور حوصلہ افزا نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں، اور پنا میں ہر سال ’سلسلہ‘ پروگرام کے ذریعے ادب و شاعری سے وابستہ ہونے والے شائقین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ بلاشبہ اس قسم کے پروگراموں کی کامیابی میں ضلع کوآرڈینیٹرز کا کردار بے حد اہم ہوتا ہے۔ اس کے لیے پنا ضلع کے کوآرڈینیٹر سریش سوربھ یقیناً مبارکباد کے مستحق ہیں۔‘‘

پنا ضلع کے کوآرڈینیٹر سریش سوربھ نے بتایا کہ سلسلہ کے تحت دوپہر 2.00 ادبی و شعری نشست کا انعقاد ہوا، جس کی صدارت جگدیش کشواہا پربودھ نے کی، جبکہ مہمان خصوصی کے طور پر مہاراج کماری کرشنا راجا اور مہمان ذی وقار کے طور پر مکیش پانڈے چندن اسٹیج پر جلوہ افروز رہے۔ اس موقع پر خصوصی مقرر کے طور پر موجود سینئر صحافی سلیم خان نے ’’اردو شاعری اور ادب میں سماجی ہم آہنگی‘‘ کے عنوان پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان اور اس کا زرخیز ادب ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ وراثت کا سب سے متحرک اور زندہ جاوید دستاویز ہے۔ یہ زبان کبھی کسی ایک طبقے، خطے یا مذہب کے تنگ دائروں میں قید نہیں رہی؛ بلکہ اس کی پیدائش اور ارتقا کا سفر ہی متنوع تہذیبوں، زبانوں، بولیوں اور عوامی روایتوں کے خوشگوار و مقدس سنگم سے طے پایا ہے۔ حضرت امیر خسرو کی پہیلیوں سے لے کر میر تقی میر کے سوز، مرزا غالب کی فلسفیانہ فکر، نظیر اکبر آبادی کے عوامی رنگ، کبیر کی روایت کے اثرات اور جدید دور کے تخلیق کاروں تک—اردو ادب نے ہمیشہ سماج کو جوڑنے، انسانیت کو ہر چیز پر مقدم رکھنے اور سماجی ہم آہنگی و باہمی رواداری کو مستحکم کرنے کا بے مثال فریضہ انجام دیا ہے۔‘‘

شعری و ادبی نشست میں جن شعرائے کرام اور قلمکاروں نے اپنا کلام پیش کیا، ان میں محمد صادق قریشی ’صادق‘، سید فرحان وافی، جگدیش کشواہا ’پربودھ‘، لکشمی نارائن چرولیا ’چنتک‘، مکیش کمار پانڈے ’چندن‘، اوما شنکر مشرا، آشیش پانڈے ’ضدی‘، رام نواس ’ساتھی‘، محترمہ دیپالی پانڈے ’دیا‘، محترمہ پوجا ترپاٹھی، محمد ذیشان ’آن‘، سہیل عثمانی اور محمد ’روبان‘ کے نام شامل ہیں۔

پروگرام کی نظامت کے فرائض سریش سوربھ نے بحسن و خوبی انجام دیے۔ تقریب کے اختتام پر انہوں نے تمام معزز مہمانوں، تخلیق کاروں اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande