
لکھنؤ، 30 اگست (ہ س)۔ اتر پردیش میں اپنی سیاسی بنیاد اور تنظیمی رسائی بڑھانے کی کوشش میں مصروف راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) نے اتوار کو دارالحکومت لکھنؤ میں ایک بڑا کنونشن منعقد کرکے اسمبلی انتخابات سے قبل اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ اندرا گاندھی پرتِشٹھان میں منعقدہ پروگرام میں آر ایل ڈی کے قومی صدر اور مرکزی وزیر جینت چودھری نے کارکنوں کو تنظیم کی توسیع کا منتر دیا۔ انہوں نے پرانے کارکنوں کے تجربے اور نئے لوگوں کی توانائی کو ساتھ لے کر پارٹی کو ریاست کے ہر علاقے تک پہنچانے پر زور دیا۔
جینت چودھری نے کہا کہ پارٹی کو مضبوط بنانے کے لیے کارکنوں کو چھوٹے موٹے اختلافات پیچھے چھوڑنے ہوں گے۔ نئے لوگوں کا کھلے دل سے استقبال کرنا ہوگا اور پرانے کارکنوں کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پارٹی کو آگے بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آر ایل ڈی تمام طبقات کو ساتھ لے کر اپنی سیاسی طاقت میں اضافہ کرے گی۔
کنونشن میں جینت چودھری نے ’اے بی سی ڈی‘ کا ذکر کرتے ہوئے وسیع سماجی شمولیت کا پیغام دیا۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ آر ایل ڈی کی سیاست کسی ایک علاقے یا طبقے تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ مختلف سماجی گروہوں کو ساتھ جوڑ کر ریاست میں اپنا دائرۂ اثر بڑھایا جائے گا۔
سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کو نشانہ بناتے ہوئے جینت نے کہا کہ سیاسی مخالفت اپنی جگہ ہے، لیکن ہر تنازع کو سیاست کی عینک سے دیکھنا مناسب نہیں ہے۔ کنونشن میں آر ایل ڈی رہنماؤں نے ریاست کی آئندہ سیاست میں پارٹی کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مستقبل میں حکومت سازی میں آر ایل ڈی کا کردار فیصلہ کن ہوسکتا ہے۔
آر ایل ڈی صدر نے کہا کہ اتر پردیش ترقی کی راہ پر آگے بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں ذات کے نام پر معاشرے میں کشیدگی اور تقسیم پیدا کرنے کی کوششوں سے سب کو محتاط رہنا چاہیے۔ انہوں نے سماجی اتحاد کو مضبوط کرنے اور تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت پر زور دیا۔
جینت چودھری نے کہا کہ اتر پردیش میں ترقی کے ساتھ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے ڈیفنس کوریڈور کو روزگار کے نئے مواقع سے جوڑنے کی بات کہی۔ جینت نے بتایا کہ وہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کرکے اتر پردیش کے ڈیفنس کوریڈور کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ جھانسی سے لکھنؤ تک 6 شہر ڈیفنس کوریڈور سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر اسے آئی ٹی آئی اور ہنرمندی کی تربیت سے جوڑا جائے اور صنعتوں کی ضرورت کے مطابق نوجوانوں کو تربیت دی جائے تو بڑی تعداد میں مقامی نوجوانوں کو روزگار مل سکتا ہے۔
پارٹی کی توجہ اب مغربی اتر پردیش سے آگے بڑھ کر پوروانچل، وسطی اتر پردیش اور بندیل کھنڈ میں تنظیم قائم کرنے پر ہے۔ آر ایل ڈی کا منصوبہ ریاست کے تمام علاقوں میں بوتھ سطح تک تنظیم کو فعال کرنے کا ہے۔ کنونشن میں تنظیم کی توسیع اور نئے کارکنوں کو جوڑنے کی حکمت عملی پر بھی زور دیا گیا۔
اس موقع پر اتر پردیش حکومت میں سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر انل کمار، تریلوک تیاگی قومی جنرل سکریٹری (تنظیم)، اتر پردیش کے ریاستی صدر ایشوریہ راج سنگھ، ریاستی میڈیا انچارج میانک تریویدی کے ساتھ پارٹی کے رہنما، عہدیداران اور بڑی تعداد میں کارکن موجود رہے۔
کنونشن میں رائے بریلی کے برہمن رہنما بی کے شکلا اپنے حامیوں کے ساتھ آر ایل ڈی میں شامل ہوئے۔ اس کے علاوہ کئی دیگر برہمن اور اعلیٰ ذات کے رہنماؤں کو بھی پارٹی سے جوڑنے کی کوششیں جاری ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد