نیپال: لاشیں گلنے سڑنے لگیں، سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کا خطرہ بڑھا
کاٹھمنڈو، 30 اگست (ہ س)۔ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد ہلاک ہونے والے انسانوں اور جانوروں کی لاشیں گلنے سڑنے لگی ہیں، جس سے متاثرہ علاقوں میں وبائی اور متعدی بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ سیلاب میں سیکڑوں افراد لاپتہ ہوئے ہیں، جن
نیپال: لاشیں گلنے سڑنے لگیں، سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کا خطرہ بڑھا


کاٹھمنڈو، 30 اگست (ہ س)۔ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد ہلاک ہونے والے انسانوں اور جانوروں کی لاشیں گلنے سڑنے لگی ہیں، جس سے متاثرہ علاقوں میں وبائی اور متعدی بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ سیلاب میں سیکڑوں افراد لاپتہ ہوئے ہیں، جن میں سے بہت کم افراد کو زندہ بچایا جا سکا ہے، جبکہ بڑی تعداد میں لاشیں اب بھی نہیں مل سکی ہیں۔سیلاب میں ہزاروں جانور بھی بہہ گئے یا ہلاک ہوئے ہیں، لیکن ان کی لاشوں کو ٹھکانے لگانے کا مناسب انتظام نہیں ہو سکا ہے۔ ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو بیماریوں کا پھیلاؤ سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔متاثرہ علاقوں میں بکھری ہوئی لاشوں کی وجہ سے ہیضہ، اسہال، اسکرب ٹائفس، روٹا وائرس، ٹائیفائڈ، ہیپاٹائٹس اے اور ای، لیپٹوسپائروسیس، ڈینگی، ملیریا، جلدی اور سانس کی بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سینئر متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر شیر بہادر پون نے خبردار کیا کہ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر صحت سے متعلق احتیاطی اقدامات نہ کیے گئے تو عوامی صحت کا بڑا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف انسان ہی نہیں بلکہ ہزاروں جانور بھی ہلاک ہوئے ہیں اور اب ان کی لاشیں گلنے سڑنے لگی ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بلا ضرورت متاثرہ علاقوں میں نہ جائیں، کیونکہ کسی ایک شخص کے متعدی بیماری کا شکار ہونے کی صورت میں بیماری مزید علاقوں تک پھیل سکتی ہے۔

فی الحال سیلاب متاثرین بڑی تعداد میں ایک ساتھ رہ رہے ہیں۔ ان کے کھانے پینے اور رہائش کا انتظام بھی مشترکہ مقامات پر کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر پون کے مطابق خیموں یا کھلی جگہوں پر رہنے کے دوران مچھر اور دیگر کیڑے لوگوں کو کاٹ سکتے ہیں، جس سے ایک شخص سے دوسرے شخص میں بیماری منتقل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بے گھر افراد کے کیمپوں میں پینے کے پانی اور کھانے پینے کی اشیا کی تقسیم مناسب طریقے سے نہ کی گئی تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر پانی سے پھیلنے والی بیماریاں، سانس کے انفیکشن اور اسہال کا خطرہ زیادہ ہے۔ ان کے مطابق اسکرب ٹائفس اور کیڑوں کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں کا خطرہ بھی موجود ہے۔ڈاکٹر پون نے مشورہ دیا کہ پانی کو ابالنے یا کلورین کے ذریعے صاف کرنے کے بعد ہی استعمال کیا جائے۔ لوگوں کو باقاعدگی سے صابن اور پانی سے ہاتھ دھونے چاہئیں۔ عارضی کیمپوں میں بیت الخلا اور کچرے کے مناسب انتظام پر بھی خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ بخار، اسہال، الٹی یا جلد میں انفیکشن کی علامات ظاہر ہونے پر فوراً طبی مرکز سے رابطہ کرنا چاہیے۔

سیلاب نے رسوا اور نواکوٹ میں ہزاروں گھروں اور دیگر عمارتوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ ان گھروں میں رہنے والے کئی افراد لاپتہ ہیں جبکہ ان کے پالتو جانور بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔ سیلاب میں بہہ کر آنے والی لاشیں دھادنگ، گورکھا، تنہون، چتوان اور نول پراسی مشرق تک برآمد ہوئی ہیں۔حکام کے لیے جہاں انسانی لاشوں کا انتظام کرنا ہی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے، وہیں مردہ جانوروں کی لاشوں کو ٹھکانے لگانے پر بھی اب خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ مردہ جانوروں کے گلنے سڑنے سے جراثیم پھیلنے کا خطرہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

اہم متاثرہ علاقوں میں رسوا اور تریشولی اسپتال کے علاوہ بیشتر مقامی طبی مراکز یا تو مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں یا کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔ فوج، نیپال پولیس اور وزارت صحت کی جانب سے طبی کیمپ لگائے جا رہے ہیں، لیکن یہ کیمپ علاج کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔سابق وزیر صحت ڈاکٹر سدھا شرما نے کہا کہ اس وقت متعدی بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے، اس لیے خصوصی احتیاط کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ کئی مقامات پر انسانی لاشیں بکھری ہوئی ہیں اور کچھ لاشیں ٹکڑوں کی صورت میں بھی ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں جانور بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ایسی صورت حال میں خطرناک بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بے گھر افراد کی بستیوں میں صفائی کا مناسب خیال نہ رکھا گیا تو اسہال اور نمونیا جیسی بیماریاں تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔ حاملہ خواتین، بچوں اور نومولودوں کو اس صورت حال میں زیادہ خطرہ ہے، اس لیے ان پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم کام لوگوں کی جان بچانا ہے، تاہم وبائی بیماریوں کے خطرے کے پیش نظر وزارت صحت کے تعاون سے ضروری اقدامات بھی شروع کر دیے گئے ہیں۔ جہاں ممکن ہو وہاں جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے اور مردہ جانوروں کو تلاش کرکے ان کا مناسب انتظام کیا جا رہا ہے۔ تاہم، متاثرہ علاقوں کی مشکل صورت حال کے باعث ابھی ہر جگہ پہنچنا ممکن نہیں ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande