
نئی دہلی، 30 اگست (ہ س)۔ بھارت اور ازبکستان نے اپنے اسٹریٹیجک تعلقات کو جامع اسٹریٹیجک شراکت داری کی سطح تک لے جانے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان اتوار کو ہوئی بات چیت کے بعد 11 معاہدے ہوئے اور پانچ اہم اعلانات کیے گئے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک سال 2030 تک اپنی باہمی تجارت کو ایک ارب ڈالر سے بڑھا کر 5 ارب ڈالر تک لے جانے پر بھی متفق ہوئے ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوئیف کے ساتھ وفود کی سطح پر بات چیت کی۔ مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان معاہدوں کا تبادلہ کیا گیا۔ وزارت خارجہ کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگی کے شعبے میں این پی سی آئی انٹرنیشنل پیمنٹس لمیٹڈ اور ازبکستان کے نیشنل انٹربینک پروسیسنگ سینٹر جے ایس سی کے درمیان تجارتی معاہدہ ہوا ہے۔ اس کے تحت بھارت میں یو پی آئی ایپ استعمال کرنے والے صارفین ازبکستان میں تجارتی ادائیگی کے لیے قومی کیو آر کوڈ اسکین کرسکیں گے۔
وزارت کے مطابق بھارت نے بحیرہ ارال (وسطی ایشیا میں قازقستان اور ازبکستان کے درمیان واقع ایک بند نمکین پانی کی جھیل) کے علاقے میں شجرکاری کے لیے 10 لاکھ امریکی ڈالر کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ ہندی زبان کے مطالعے کو فروغ دینے کے لیے لال بہادر شاستری ہندی لینگویج اسکالرشپ کے تحت 100 اسکالرشپس فراہم کی جائیں گی۔ وہیں، تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز میں آئی سی سی آر سنسکرت چیئر قائم کی جائے گی۔
بھارت اور ازبکستان نے 2026-30 کے لیے ثقافتی تبادلے کے پروگرام پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے تحت ترمذ میں واقع قدیم بدھ مقامات فایاز تیپا اور کرا تیپا کے تحفظ اور بحالی کے لیے وزارت خارجہ اور ازبکستان کی ثقافتی ورثہ ایجنسی کے درمیان مفاہمتی خط پر دستخط کیے گئے۔
دونوں ممالک کے قومی آرکائیوز کے درمیان آرکائیوی کام کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ آیوروید اور دیگر روایتی طبی نظام، ارضیات و معدنی وسائل اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں بھی تعاون کے معاہدے کیے گئے۔
سیاحت کے شعبے میں 28-2026 کے لیے شراکت داری پروگرام طے کیا گیا ہے۔ خارجہ سروس کی تربیت کے لیے سشما سوراج انسٹی ٹیوٹ آف فارن سروس اور ازبکستان کی ڈپلومیٹک اکیڈمی کے درمیان معاہدہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک کی وزارت خزانہ نے اقتصادی اور مالیاتی مذاکرات قائم کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس کے علاوہ اعلیٰ تعلیم اور سائنسی تحقیق میں تعاون کے لیے بھی معاہدہ کیا گیا۔ بھارت کی ریاست گجرات اور ازبکستان کے سمرقند خطے نے شراکت داری کے تعلقات قائم کرنے کے لیے تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے۔
وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارت اور ازبکستان نے تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط کرتے ہوئے دو طرفہ، علاقائی اور عالمی امور پر تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوئیف کو بھارت کے دورے کی دعوت دی، جس کی تاریخ سفارتی ذرائع سے طے کی جائے گی۔ مرزیوئیف نے 2026 میں برکس کی صدارت سنبھالنے پر مودی کو مبارکباد دی، جبکہ مودی نے 30-2027 کے لیے ازبکستان کی تحریکِ عدم وابستگی کی صدارت کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
دونوں رہنماؤں نے بین الاقوامی وائلڈ لائف اسپیشیز الائنس اور بین الاقوامی شمسی اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کیا اور ان اقدامات سے وابستہ ہونے میں ازبکستان کی دلچسپی کا خیرمقدم کیا۔ اقوام متحدہ، بالخصوص سلامتی کونسل میں وسیع اصلاحات کی حمایت کرتے ہوئے ازبکستان نے سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لیے بھارت کی امیدواری کی حمایت کا اعادہ کیا۔
دونوں ممالک نے ٹرانسپورٹ رابطوں، کثیرالجہتی نقل و حمل کے راستوں، کان کنی، ارضیات، جوہری توانائی اور اہم معدنیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ تجارت کو وسعت دینے کے لیے غیر محصولاتی رکاوٹیں دور کرنے اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی، سرحد پار دہشت گردی، دہشت گردی کی مالی معاونت، منشیات کی اسمگلنگ، منظم جرائم اور سائبر خطرات کے خلاف تعاون مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد