سونیا گاندھی کی کتاب کے تنازعہ پر شیخاوت کا کانگریس پر حملہ، کہا: بھارت سرکار کو درمیان میں لانے کی کیا ضرورت؟
جے پور، 29 اگست(ہ س)۔ کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی کی کتاب کے ناشر سے متعلق کانگریس کے الزامات پر مرکزی وزیر ثقافت و سیاحت گجیندر سنگھ شیخاوت نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنف اور ناشر کے درمیان اختلافات کو سیاسی مسئلہ بنانے اور اس معا
سونیا گاندھی کی کتاب کے تنازعہ پر شیخاوت کا کانگریس پر حملہ، کہا: بھارت سرکار کو درمیان میں لانے کی کیا ضرورت؟


جے پور، 29 اگست(ہ س)۔ کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی کی کتاب کے ناشر سے متعلق کانگریس کے الزامات پر مرکزی وزیر ثقافت و سیاحت گجیندر سنگھ شیخاوت نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنف اور ناشر کے درمیان اختلافات کو سیاسی مسئلہ بنانے اور اس معاملے میں بھارت سرکار کو گھسیٹنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ہفتہ کو جے پور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخاوت نے کہا کہ اگر مصنف اور ناشر کے درمیان کسی معاملے پر اختلاف ہے تو دونوں کے اپنے اپنے خیالات اور مفادات ہوسکتے ہیں۔ ایسی صورت میں مسئلے کا حل تلاش کرنے کے بجائے اسے سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ مصنف اور ناشر کے درمیان اختلاف کی صورت میں ناشر کا اپنا نقطہ نظر ہوسکتا ہے اور مصنف کی اپنی رائے۔ ایسے میں سیاست کرنے کے بجائے کسی دوسرے ناشر کا انتخاب کیا جاسکتا تھا۔ انہوں نے سوال کیا، ’’اس معاملے میں بھارت سرکار کو درمیان میں لانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟‘‘

راجستھان میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے حوالے سے شیخاوت نے دعویٰ کیا کہ انہیں سو فیصد یقین ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی صرف جے پور ہی نہیں بلکہ پورے راجستھان میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو عوام کی وسیع حمایت حاصل ہو رہی ہے اور آنے والے دنوں میں انتخابی تصویر پوری طرح واضح ہوجائے گی۔ شیخاوت نے دعویٰ کیا کہ اگلے 10 سے 12 دن میں جب انتخابی نتائج سامنے آئیں گے تو کانگریس کو اپنی سیاسی پوزیشن پر دوبارہ غور کرنا پڑے گا۔

راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کو بھی نشانہ بناتے ہوئے شیخاوت نے کہا کہ گہلوت کو ایک بار پھر اس بات کا جائزہ لینے کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ ان کی پارٹی میں ایسی کیا صورتحال تھی جس کے باعث ان کے انتخابی اندازے غلط ثابت ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج کانگریس کے دعووں اور اس کے انتخابی جائزوں کی حقیقت عوام کے سامنے لے آئیں گے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande