جموں میں موسمی فلو ایچ ون این ون کے معاملات میں اضافہ
جموں، 29 اگست (ہ س)۔ جموں میں موسمی فلو ایچ ون این ون کے معاملات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد ڈاکٹروں نے لوگوں کو محتاط رہنے اور فلو کی علامات ظاہر ہونے پر بروقت طبی مشورہ لینے کی ہدایت کی ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں جولائی کے دورا
Flu


جموں، 29 اگست (ہ س)۔

جموں میں موسمی فلو ایچ ون این ون کے معاملات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد ڈاکٹروں نے لوگوں کو محتاط رہنے اور فلو کی علامات ظاہر ہونے پر بروقت طبی مشورہ لینے کی ہدایت کی ہے۔

گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں جولائی کے دوران ایچ ون این ون کے 11 معاملات سامنے آئے، جبکہ اگست میں اب تک تقریباً 25 افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں معاملات میں اضافے کے باعث صحت حکام نے موسمی فلو کی صورت حال پر نگرانی مزید بڑھا دی ہے۔

جی ایم سی جموں کے شعبہ جراثیمیات کے سربراہ ڈاکٹر سندیپ ڈوگرا نے کہا کہ معاملات میں اضافہ تشویش کا باعث ضرور ہے، تاہم گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے فلو جیسی علامات رکھنے والے افراد کو دوسروں سے قریبی رابطے سے گریز کرنے اور علامات برقرار رہنے یا شدت اختیار کرنے کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔

انہوں نے بتایا کہ ایچ ون این ون کی عام علامات میں بخار، کھانسی، گلے میں خراش، سر درد، جسم میں درد، تھکن اور کمزوری شامل ہیں۔ صحت مند افراد میں یہ بیماری عموماً ہلکی نوعیت کی ہوتی ہے اور مناسب آرام، پانی اور معاون علاج سے مریض صحت یاب ہو جاتے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق بزرگ افراد، کم عمر بچے، پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا افراد اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد میں پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، اس لیے انہیں علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی مشورہ لینا چاہیے۔

ڈاکٹر ڈوگرا نے کھانستے یا چھینکتے وقت منہ اور ناک ڈھانپنے، ہاتھوں کو بار بار دھونے، بیماری کی صورت میں گھر پر رہنے اور مناسب مقدار میں پانی پینے کی ہدایت کی۔

انہوں نے لوگوں کو خود سے ادویات، خصوصاً وائرس کش ادویات اور اینٹی بایوٹکس استعمال نہ کرنے کا مشورہ بھی دیا۔

مرکزی وزارت صحت کے مطابق ملک میں گردش کرنے والا ایچ ون این ون وائرس موسمی نوعیت کا ہے اور کسی نئے یا غیر معمولی طور پر خطرناک وائرس کے شواہد نہیں ملے ہیں۔ حکومت ملک بھر میں قائم 73 وائرس تحقیق و تشخیصی مراکز کے ذریعے فلو کی صورت حال کی نگرانی کر رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande