پندرہ سالہ قبائلی لڑکی کی مبینہ عصمت دری اور موت کے معاملے میں کرائم برانچ سے تحقیقات سے متعلق ہائی کورٹ میں پیر کو سماعت
پندرہ سالہ قبائلی لڑکی کی مبینہ عصمت دری اور موت کے معاملے میں کرائم برانچ سے تحقیقات سے متعلق ہائی کورٹ میں پیر کو سماعت جموں، 29 اگست (ہ س)۔ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ پیر کو کشتواڑ کے چھاترو علاقے میں 15 سالہ قبائلی لڑکی کی مبینہ عصمت دری
Jk Highcurt


پندرہ سالہ قبائلی لڑکی کی مبینہ عصمت دری اور موت کے معاملے میں کرائم برانچ سے تحقیقات سے متعلق ہائی کورٹ میں پیر کو سماعت

جموں، 29 اگست (ہ س)۔ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ پیر کو کشتواڑ کے چھاترو علاقے میں 15 سالہ قبائلی لڑکی کی مبینہ عصمت دری اور موت کے معاملے میں کرائم برانچ سے تحقیقات کرانے کے مطالبے سے متعلق عرضی پر سماعت کرے گی۔ یہ عرضی نابالغہ کے والد کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ دیپیکا پشکر ناتھ نے دائر کی ہے۔

عرضی میں معاملے کی موجودہ تحقیقات کرائم برانچ کو منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ لڑکی کی 20 اگست کو موت سے قبل پیش آنے والے تمام واقعات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس میں مبینہ پنچایتی مداخلت، والد پر سمجھوتے کے لیے دباؤ ڈالنے اور خاموش رہنے کے عوض رقم کی پیشکش کیے جانے کے الزامات کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پولیس نے معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے اور اب تک چھ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار افراد میں مبینہ مرکزی ملزم اسکول ہیڈماسٹر، ایک نرس اور ضلع اسپتال کشتواڑ میں تعینات ڈیلی ویج صفائی ملازم بھی شامل ہیں۔ حکومت نے متعلقہ استاد کو معطل کر دیا ہے جبکہ ڈیلی ویجر ملازم کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔

عرضی کے مطابق، نابالغہ کے حاملہ ہونے کا علم ہونے کے بعد مبینہ طور پر ایک پنچایت منعقد کی گئی، جہاں اس کے والد پر معاملہ رفع دفع کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور رقم کی پیشکش کی گئی۔ والد نے مبینہ سمجھوتے کو مسترد کرتے ہوئے قانونی کارروائی پر اصرار کیا۔ درخواست میں الزام ہے کہ بعد میں دباؤ کے تحت والد سے ایک خالی کاغذ پر انگوٹھے کا نشان بھی لگوایا گیا۔ درخواست میں پنچایت میں موجود افراد کی شناخت اور پوچھ گچھ، مذکورہ دستاویز کی تیاری، انگوٹھے کا نشان حاصل کرنے کے حالات اور مبینہ رقم کے ذرائع و مقصد کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

عرضی میں نابالغہ کے مبینہ جنسی استحصال، حمل، مختلف طبی مراکز میں علاج، ڈوڈہ منتقلی، مردہ بچے کی پیدائش اور بعد ازاں پنجاب لے جانے کے دوران پیش آنے والے واقعات کی بھی مکمل تحقیقات کی درخواست کی گئی ہے۔ درخواست گزار نے اسپتال ریکارڈ، الٹراساؤنڈ رپورٹس، طبی نسخوں، ایمبولینس ریکارڈ، جی پی ایس ڈیٹا، سی سی ٹی وی فوٹیج، کال ڈیٹیل ریکارڈ، الیکٹرانک مواصلات، مالیاتی ریکارڈ اور فرانزک و ڈی این اے شواہد محفوظ کرکے ان کی جانچ کرانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔عرضی میں اسپتال ریکارڈ میں نابالغہ کو مبینہ طور پر 13 سالہ لڑکے کی بیوی درج کیے جانے کی وجوہات اور یہ معلومات فراہم کرنے والے شخص یا افراد کی شناخت کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande