
جموں،29 اگست (ہ س)۔
چھاترو کشتواڑ میں نابالغ لڑکی کی مشتبہ حالات میں موت کے معاملے میں پولیس نے ایک خاتون صحت کارکن کوگرفتارکرلیا ہے۔ اس گرفتاری کے ساتھ ہی کیس میں گرفتارملزمان کی تعداد چھ ہوگئی ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار خاتون کی شناخت سونیکا پریہار کے طور پر ہوئی ہے، جو ضلع اسپتال کشتواڑ میں فیمیل ملٹی پرپز ورکر کے طور پر تعینات تھی۔ اسے تھانہ چھاترو میں درج ایف آئی آر نمبر 34/2026 کی تحقیقات کے دوران گرفتار کیا گیا۔
یہ مقدمہ بھارتیہ نیائے سنہتا، بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ قانون اور درج فہرست ذات و قبائل کے خلاف مظالم کی روک تھام قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت درج ہے۔ نابالغ لڑکی کی رواں ماہ مشتبہ حالات میں موت کے بعد کشتواڑ اور چناب خطے کے مختلف علاقوں میں شدید احتجاج کیا گیا تھا۔ چھاترو، کشتواڑ، ڈوڈہ اور رام بن میں لوگوں نے احتجاج، ہڑتال اور دھرنے دے کر معاملے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کشتواڑ نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی، جو کیس کی تفصیلی تحقیقات کر رہی ہے۔
پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران نابالغ کے مبینہ جنسی استحصال، حمل، مبینہ طور پر حمل ختم کرنے کی کوشش اور اس کے طبی علاج سے وابستہ متعدد افراد کے کردار سے متعلق شواہد سامنے آئے ہیں۔ اس سے قبل پولیس پانچ افراد کو گرفتار کرچکی ہے، جن میں ایک سرکاری اسکول کا استاد اور اس کا بھائی بھی شامل ہیں۔ استاد کی گرفتاری کے بعد محکمہ تعلیم نے اسے معطل کردیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران سونیکا پریہار کا کردار بھی سامنے آیا، جس کے بعد اسے قانون کے مطابق گرفتار کیا گیا۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم سائنسی اور شواہد پر مبنی طریقہ کار کے ذریعے نابالغ کی موت سے قبل پیش آنے والے واقعات اور تمام متعلقہ افراد کے کردار کا تعین کر رہی ہے۔
پولیس نے کہا کہ شواہد کی بنیاد پر مزید گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جاسکتی ہیں اور جو بھی شخص ملوث پایا گیا، اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ضلع پولیس کشتواڑ نے تحقیقات کو غیر جانب دارانہ اور مکمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملوث پائے جانے والے کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا ۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد اصغر