
جے پور، 29 اگست (ہ س)۔ راجستھان میں مانسون کمزور پڑنے اور کئی اضلاع میں معمول سے کم بارش کے باعث ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے حکومت کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ گہلوت نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ساون کا مہینہ گزرنے کے ساتھ ہی ریاست میں مانسون کمزور پڑ گیا ہے اور بھادوں میں بھی بارش کی امید کم نظر آ رہی ہے۔ ان کے مطابق دارالحکومت جے پور سمیت ریاست کے 17 اضلاع میں خشک سالی جیسے حالات پیدا ہوگئے ہیں۔
گہلوت نے کہا کہ پالی، جالور، بانسواڑہ، جیسلمیر اور ادے پور جیسے اضلاع میں معمول سے 40 سے 55 فیصد تک کم بارش ہوئی ہے، جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ خشک سالی جیسے حالات کا سب سے زیادہ اثر کسانوں اور مزدوروں پر پڑتا ہے، اس لیے ریاستی حکومت کو ابھی سے ضروری اقدامات شروع کردینے چاہئیں۔
سابق وزیر اعلیٰ نے اپنی حکومت کے دور کی اندرا رسوئی اور منریگا جیسی اسکیموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بحران کے وقت ان منصوبوں نے غریبوں، کسانوں اور مزدور طبقے کو سہارا فراہم کیا تھا۔انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ غذائی اجناس کے ذخیرے میں اضافہ کیا جائے، پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور روزگار فراہم کرنے کے لیے منریگا کے ساتھ ساتھ شہری روزگار گارنٹی اسکیم کو بھی مضبوط کیا جائے۔
گہلوت نے کہا کہ مویشیوں کے لیے چارے کی دستیابی یقینی بنانے پر بھی ابھی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے متعلقہ محکموں کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لینے اور بروقت ضروری تیاریاں مکمل کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے ابھی سے مؤثر اقدامات شروع کردیے تو آنے والے دنوں میں ریاست کے عوام کو کسی بڑے بحران کا سامنا کرنے سے بچایا جاسکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan