مدھیہ پردیش میں بارش سے سیلاب جیسی صورتحال، چترکوٹ میں گورگی ڈیم ٹوٹا، رکن پارلیمنٹ نے ریسکیو کے لیے ہیلی کاپٹر مانگا
وندھیا اور بندیل کھنڈ کے خطے میں انتہائی شدید بارش سے حالات خراب، کئی علاقوں میں پانی بھرا بھوپال، 29 اگست (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے ستنا اور چترکوٹ سمیت وندھیا اور بندیل کھنڈ کے خطے میں 14 گھنٹوں سے جاری موسلادھار بارش نے معمولات زندگی درہم برہم
چترکوٹ میں ڈیم ٹوٹنے سے علاقے میں پانی بڑھا۔


سڑکوں پر کشتیاں چلانے پر مجبور


پنا کے کئی علاقوں میں سیلاب جیسی صورتحال


وندھیا اور بندیل کھنڈ کے خطے میں انتہائی شدید بارش سے حالات خراب، کئی علاقوں میں پانی بھرا

بھوپال، 29 اگست (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کے ستنا اور چترکوٹ سمیت وندھیا اور بندیل کھنڈ کے خطے میں 14 گھنٹوں سے جاری موسلادھار بارش نے معمولات زندگی درہم برہم کر دیے ہیں۔ ہفتہ کے روز چترکوٹ میں گورگی ڈیم ٹوٹنے سے صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی ہے۔ منداکنی ندی میں آنے والے 30 فٹ اونچے سیلاب میں رام گھاٹ کا 300 میٹر طویل پل بہہ گیا ہے۔ کئی علاقوں میں پانی بھر گیا ہے۔ صورتحال کے پیش نظر مقامی رکن پارلیمنٹ نے وزیر اعلیٰ سے ریسکیو کے لیے فوری طور پر ہیلی کاپٹر اور این ڈی آر ایف کی ٹیم تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دراصل، وندھیا اور بندیل کھنڈ کے خطے میں غیر معمولی بارش کے باعث حالات ابتر ہو چکے ہیں۔ سب سے خوفناک صورتحال چترکوٹ کی ہے، جہاں گزشتہ 14 گھنٹوں سے جاری بارش اور گورگی ڈیم کے ٹوٹنے کی وجہ سے منداکنی ندی طغیانی زدہ ہے۔ سیلاب کا پانی نیاگاوں راج محل، بھرت گھاٹ، رام گھاٹ اور ترپاٹھی لاج تک پہنچ چکا ہے۔ رام گھاٹ اور بھرت گھاٹ مکمل طور پر زیر آب آ گئے ہیں اور گھاٹ کے کنارے واقع تقریباً 400 دکانیں پانی میں ڈوب گئی ہیں۔ حالات اس قدر نازک ہیں کہ کئی محلوں کی سڑکوں پر کشتیاں چلانی پڑ رہی ہیں اور 15-10 ٹرانسفارمرز بند ہونے سے بجلی کی فراہمی ٹھپ ہو گئی ہے۔

نیاگاوں کو ہنومان دھارا سے جوڑنے والا اور سیاحتی بنگلے کے سامنے بنا تقریباً 25 فٹ اونچا اور 300 میٹر طویل پختہ پل پانی کے تیز بہاو میں تاش کے پتوں کی طرح بہہ گیا۔ بھرت گھاٹ پر واقع معروف گنگا آرتی کا مقام زیر آب آ کر بہہ چکا ہے اور ستی انسویا علاقے میں پانی ریلنگ کے اوپر سے گزر رہا ہے۔ کھوڈری میں گورگی ڈیم کے اچانک ٹوٹنے سے برہا، بڑکھیڑا، نیاگاوں اور بالہا رئیا گاوں میں شدید سیلاب آ گیا ہے۔ نیاگاوں راج محل اور ترپاٹھی لاج کے گرد کئی فٹ پانی جمع ہو جانے سے لوگ گھروں اور ہوٹلوں کی بالائی منزلوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

سیلاب کا خوفناک اثر سڑک کے ساتھ ساتھ ریل نیٹ ورک پر بھی دکھائی دے رہا ہے۔ ستنا کے مجھگواں کے پاس ریلوے ٹریک مکمل طور پر زیر آب آنے کی وجہ سے آنند وہار سے ریوا جانے والی پیسنجر ٹرین کئی گھنٹوں سے بیچ راستے میں پھنسی رہی۔ ستنا-چترکوٹ مین روڈ تین اہم مقامات سے کٹ جانے سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے۔ ناگود میں تھانے اور پیٹرول پمپ کے اندر کمر تک پانی بھر جانے سے احاطہ تالاب میں تبدیل ہو گیا ہے، وہیں ستنا شہر میں کلکٹریٹ جانے والی اہم سڑک پانی بھر جانے کے باعث مکمل طور پر بند ہے۔ کوٹھی علاقے میں ایک کچا مکان گرنے سے ملبے میں دب کر دو مویشی ہلاک ہو گئے۔

ضلع پنا اور چھترپور میں بھی بارش نے زبردست تباہی مچائی ہے۔ پنا کے دھرم پور نالے میں طغیانی آنے سے پنا-پہاڑی کھیڑا راستہ بند ہو گیا ہے، جبکہ پہاڑی کھیڑا کا عُمری گاوں چاروں طرف سے پانی میں گھر کر جزیرہ بن گیا ہے۔ مشہور سیاحتی مقام برہسپتی کنڈ کا راستہ بھی حفاظتی نقطۂ نظر سے بند کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف، چھترپور اور ٹیکم گڑھ کی سرحد پر واقع بان سجارا ڈیم کی آبی سطح کو کنٹرول کرنے کے لیے 8 گیٹ کھول دیے گئے ہیں، جن سے 792 کیوبک میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے پانی دھسان ندی میں چھوڑا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ساحلی علاقوں میں ندی کی آبی سطح 9 فٹ تک بلند ہو گئی ہے۔

ستنا کے رکن پارلیمنٹ گنیش سنگھ نے علاقے کے حالات کو انتہائی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو سے فوری طور پر لوگوں کو ایئر لفٹ کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر اور این ڈی آر ایف کی ٹیمیں بھیجنے کی اپیل کی ہے۔ انتظامی سطح پر راحت و بچاو کی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ کلکٹر ستنا ڈاکٹر ستیش کمار ایس کے مطابق چترکوٹ، پنڈرا اور ستنا میں ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں پہلے سے مستعد ہیں، جبکہ ریوا سے اضافی ٹیمیں طلب کر لی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جبل پور سے این ڈی آر ایف کی 3 خصوصی ٹیموں کو ستنا کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔ مجھگواں اور چترکوٹ کے متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو کشتیوں کے ذریعے نکالا جا رہا ہے۔ انتظامیہ نے عام شہریوں کو زیرِ آب علاقوں، ندیوں اور خطرے کے نشان سے اوپر بہنے والے پلوں اور پلیاوں سے دور رہنے کی سخت تاکید کی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande