
بیر بھوم، 29 اگست (ہ س)۔ تقریباً چھ ماہ سے بیٹی کے لاپتہ ہونے کے بعد ایک باپ مسلسل اس کی تلاش میں در در بھٹک رہا ہے۔ پولیس میں شکایت، مختلف علاقوں میں تلاش اور سی آئی ڈی کی مدد کے باوجود اب تک بیٹی کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ بیٹی کی تلاش میں پریشان والد اردھندو سنگھ اب وزیر اعلیٰ سے مدد کی امید لے کر تاراپیٹھ پہنچے ہیں۔
اردھندو سنگھ اپنی لاپتہ بیٹی امرتا سنگھ کی تصویر والا پلے کارڈ لے کر تاراپیٹھ پہنچے۔ انہیں اطلاع ملی تھی کہ وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری تاراپیٹھ میں ماں تارا کے درشن کے لیے آنے والے ہیں۔ اسی امید میں وہ وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرکے اپنی بیٹی کو تلاش کرنے کی فریاد کرنا چاہتے ہیں۔
اردھندو سنگھ نے کہا، ’’تقریباً چھ ماہ سے میری بیٹی لاپتہ ہے۔ وہ کہاں گئی، کیسی ہے، کچھ بھی معلوم نہیں ہو سکا ہے۔ کئی بار پولیس کے پاس گیا، لیکن کسی طرح کی مدد نہیں مل سکی۔ وزیر اعلیٰ کے جنتا دربار میں جانے کی بھی کوشش کی تھی، لیکن وہاں نہیں پہنچ سکا۔ گھر میں بیوی بھی بیمار ہے اور میں بیٹی کی تلاش میں مسلسل سڑکوں پر بھٹک رہا ہوں۔ وزیر اعلیٰ کو ایک خط دے کر بیٹی کو تلاش کرنے کی فریاد کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
اطلاعات کے مطابق، اردھندو سنگھ کی بیٹی امرتا سنگھ 13 مارچ سے لاپتہ ہیں۔ واقعے کے بعد سیوڑی تھانے میں تحریری شکایت درج کرائی گئی تھی۔ معاملے کی تفتیش میں پولیس کے ساتھ ساتھ سی آئی ڈی کی بھی مدد لی گئی، لیکن اب تک امرتا کا کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ خاندان کی تشویش مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ بیٹی کی تلاش میں اردھندو سنگھ بیر بھوم کے مختلف علاقوں میں گھوم چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ریاست کے کئی دیگر مقامات پر بھی بیٹی کی تصویر والا پلے کارڈ لے کر لوگوں سے معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
بیٹی کی تلاش میں وہ مایا پور بھی گئے تھے۔ وہاں اسکون مندر سمیت مختلف مقامات پر لوگوں سے بات چیت کرکے پلے کارڈ پر لگی امرتا کی تصویر دکھا کر اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، وہاں سے بھی انہیں کوئی ٹھوس سراغ نہیں مل سکا۔
اب طویل عرصے سے بیٹی کا کوئی پتہ نہ چلنے کے بعد اردھندو سنگھ نے وزیر اعلیٰ سے براہ راست ملاقات کرکے مدد کی امید ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور انتظامیہ کی سطح پر اگر معاملے میں مزید مؤثر کوششیں کی جائیں تو شاید ان کی بیٹی کا پتہ لگانے میں کامیابی مل سکے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد