ٹرمپ کی پالیسیوں نے خطے کے امن کو نقصان پہنچایا: باقر قالیباف
قطر نے ایران-امریکا مذاکرات کی بحالی پر زور دیاتہران،28اگست(ہ س)۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ واشنگٹن کے غلط فیصلوں اور ناپختہ اندازوں نے نہ صرف خطے کے امن
ٹرمپ کی پالیسیوں نے خطے کے امن کو نقصان پہنچایا: باقر قالیباف


قطر نے ایران-امریکا مذاکرات کی بحالی پر زور دیاتہران،28اگست(ہ س)۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ واشنگٹن کے غلط فیصلوں اور ناپختہ اندازوں نے نہ صرف خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچایا بلکہ امریکہ کے وسائل کو بھی ضائع کیا ہے۔قالیباف نے تہران میں قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی سے ملاقات کے دوران کہا کہ امریکی انتظامیہ کی موجودہ پالیسیوں کے منفی اثرات پورے خطے پر پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ پالیسیاں ایرانی عوام کے مفادات کو بھی متاثر کر رہی ہیں اور خطے میں عدم استحکام کو بڑھا رہی ہیں۔

ملاقات کے دوران قطری وزیراعظم نے ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں اور مذاکرات کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔ قطری وزارت خارجہ کے مطابق محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے ایرانی اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقات کی۔قطری فریق نے کہا کہ اختلافات کو حل کرنے اور خطے میں مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی مؤثر راستہ ہے۔ ملاقات میں خطے کی تازہ صورتحال، کشیدگی کم کرنے کی کوششوں اور ایران و امریکا کے درمیان بات چیت کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں جانب سے ایک مجوزہ مرحلہ وار فریم ورک پر بھی گفتگو ہوئی، جس میں آبنائے ہرمز کے ذریعے عارضی مشترکہ بحری راہداری قائم کرنے اور آبنائے کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے لیے مشترکہ منصوبے کی تجویز شامل ہے۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایران پر بحری ناکہ بندی اور اقتصادی پابندیاں جاری ہیں۔امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی ایران کی اقتصادی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایران کی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ بیرون ملک اور اپنے اتحادی گروپوں پر بڑی رقوم خرچ کر رہی ہے، جبکہ ان وسائل کو ایرانی عوام کی ضروریات پر صرف کیا جانا چاہیے۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس سے قبل کہا تھا کہ امریکہ اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایران سے وہ حاصل نہیں کر سکے گا جو وہ جنگ کے ذریعے حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے ’اسنا‘ کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ ایران اقتصادی دباؤ کے باوجود اپنی پوزیشن پر قائم ہے اور امریکی پابندیوں کے سامنے مزاحمت جاری رکھے گا۔

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں آبنائے ہرمز ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ دنیا کی تیل کی تجارت کا ایک بڑا حصہ اس اہم بحری راستے سے گزرتا ہے، جس کی وجہ سے یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے عالمی توانائی بازار پر براہ راست اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔تہران اور واشنگٹن کے درمیان سابقہ مفاہمت بھی مختلف اختلافات کے باعث برقرار نہ رہ سکی۔ بعد میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا اور فوجی کارروائیوں کے بعد امریکا نے ایران پر اقتصادی دباؤ اور پابندیوں میں مزید اضافہ کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande