
کاٹھمنڈو، 28 اگست (ہ س)۔
نیپال کے رسوا ضلع میں بھوٹے کوشی ندی میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ بدھ کی صبح تبت سے آنے والے اچانک سیلابی ریلے نے بھوٹے کوشی ندی کو انتہائی خطرناک بنا دیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جمعرات کی رات ایکس پر جاری کی گئی چھٹی رپورٹ کے مطابق، سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے اب تک 389 افراد کی لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں، جبکہ 977 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق یہ اعداد و شمار ضلعی انتظامیہ کے دفاتر اور نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹرز سے موصولہ اطلاعات کی بنیاد پر جاری کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق لاپتہ 977 افراد میں نیپال پولیس کے 28 اہلکار، نیپال فوج کے 45 اہلکار، آرمڈ پولیس فورس نیپال کے 13 اہلکار، کسٹم دفتر کے 15 ملازمین اور امیگریشن دفتر کے 4 ملازمین شامل ہیں۔
لاپتہ افراد میں 517 غیر ملکی شہری اور بیرون ملک مقیم 127 نیپالی شہری بھی شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان میں کئی افراد سیاحت کے لیے نیپال آئے ہوئے تھے۔ سیلاب اور دیگر حادثات میں 73 افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ایک الگ رپورٹ کے مطابق اسی دوران تبت میں بھی تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
نیپال پولیس کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق سب سے زیادہ 108 لاشیں چتوان سے برآمد ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ مشرقی نوال پرسی سے 62، مغربی نوال پرسی سے 15، دھادنگ سے 27، گورکھا سے 20، نواکوٹ سے 12، تنہوں سے 9 اور رسوا سے 17 لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔
مختلف اسپتالوں میں 52 زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ ترِبھون یونیورسٹی ٹیچنگ اسپتال میں 26، ٹراما سینٹر میں 20، ویر اسپتال میں 2، نربھک اسپتال میں 2، منموہن اسپتال میں ایک اور وریندر فوجی اسپتال میں ایک زخمی زیر علاج ہے۔
این ڈی آر آر ایم اے کے مطابق سرچ، ریسکیو اور راحت رسانی کے کاموں کے لیے مجموعی طور پر 13,295 سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ان میں نیپال پولیس کے 7,250، نیپال فوج کے 4,200 اور آرمڈ پولیس فورس نیپال کے 1,845 اہلکار شامل ہیں۔ریسکیو آپریشن میں 15 ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں، جن میں نیپال فوج کے 6 اور نجی شعبے کے 9 ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔اتھارٹی کے مطابق ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اب تک 1,976 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔
حکام نے سرچ و ریسکیو، ہنگامی طبی خدمات، مواصلاتی نظام، بجلی کی بحالی، سڑکوں کے نیٹ ورک، راحت رسانی، بین الاقوامی امداد اور اطلاعات کے انتظام کے لیے 12 ہنگامی رابطہ ٹیمیں تعینات کی ہیں۔متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کی بحالی کا کام بھی جاری ہے۔ دیوی گھاٹ میں سڑک کی مرمت مکمل کرلی گئی ہے، جبکہ گلچی-بیدور-تریشولی اور بیرینی-مگلِن علاقوں میں مشینری کے ذریعے آمد و رفت بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
نیپال کے وزیراعظم بَالین شاہ نے سیلاب سے متاثرہ نواکوٹ کا دورہ کرنے کے بعد کہا کہ صورتحال اب بھی انتہائی چیلنجنگ ہے اور حکومت کا پورا نظام اپنی صلاحیت کے مطابق کام کر رہا ہے۔انہوں نے فیس بک پر کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ہر شہری کی جان بچانا، لاپتہ افراد کو تلاش کرکے ان کا ریسکیو کرنا، زخمیوں کا علاج اور متاثرہ خاندانوں تک فوری راحت پہنچانا ہے۔وزیراعظم نے بتایا کہ سرچ اور ریسکیو آپریشن کے لیے نیپال پولیس، فوج اور مسلح پولیس فورس کے 13,295 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
دریں اثنا، رسوا گڑھی سرحد سے تقریباً 18 کلومیٹر اوپر ساحلی علاقے میں لینڈے ندی کا بہاؤ رک جانے سے ایک جھیل بن گئی ہے، جو تقریباً 0.11 مربع کلومیٹر علاقے میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس صورتحال سے دوبارہ سیلاب کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔
نیپال حکومت نے نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں اور متعلقہ اداروں سے ضروری احتیاط برتنے اور مکمل طور پر چوکس رہنے کی اپیل کی ہے۔
اس دوران ہندوستان کی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ نیپال کے تریشولی-I پروجیکٹ میں کام کرنے والے 63 ہندوستانی شہریوں کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایکس پر ان شہریوں کے نام بھی شیئر کیے۔
وزارت خارجہ کے مطابق تریشولی-I پروجیکٹ کے 63 ملازمین کے علاوہ تمل ناڈو کے 21 شہریوں کو بھی بچایا گیا ہے۔ یہ 21 افراد کیلاش مانسرور یاترا کے لیے نیپال گئے ہوئے تھے۔ہندوستانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ جن ہندوستانی شہریوں سے اب تک رابطہ نہیں ہو سکا ہے، ان کی موجودہ صورتحال اور مقام کا پتہ لگانے کے لیے کوششیں جاری ہیں اور ان کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے نیپال کے حکام کے ساتھ مسلسل رابطہ کیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan