چھاترو میں کمسن بچی کی مشتبہ موت کے معاملے میں مزید تین ملزم گرفتار
جموں, 27 اگست (ہ س)۔ کشتواڑ کے چھاترو علاقے میں کمسن بچی کی مشتبہ موت کے معاملے میں جموں و کشمیر پولیس نے مزید تین افراد کو گرفتار کیا ہے، جس کے بعد کیس میں گرفتار ملزمان کی تعداد پانچ ہوگئی ہے۔ ایس ایس پی کشتواڑ نریش سنگھ نے بتایا کہ 20 اگست کو پ
Arrested


جموں, 27 اگست (ہ س)۔ کشتواڑ کے چھاترو علاقے میں کمسن بچی کی مشتبہ موت کے معاملے میں جموں و کشمیر پولیس نے مزید تین افراد کو گرفتار کیا ہے، جس کے بعد کیس میں گرفتار ملزمان کی تعداد پانچ ہوگئی ہے۔

ایس ایس پی کشتواڑ نریش سنگھ نے بتایا کہ 20 اگست کو پولیس اسٹیشن چھاترو کو کمسن بچی کی مشتبہ موت کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔ ابتدائی طور پر کسی باقاعدہ شکایت کے نہ ملنے پر پولیس نے انکوائری شروع کی، تاہم تحقیقات کے دوران قابلِ دست اندازی جرم سے متعلق شواہد سامنے آنے کے بعد ایف آئی آر نمبر 34/2026 درج کی گئی۔

پولیس کے مطابق مقدمہ پوکسو ایکٹ اور بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے، جبکہ تحقیقات کے دوران ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کی متعلقہ دفعات بھی شامل کی گئیں۔معاملے کی حساسیت کے پیش نظر ایس ایس پی کشتواڑ نے ایڈیشنل ایس پی پردیپ سنگھ کی سربراہی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔پولیس کے مطابق تحقیقات میں گورینال کے ایک سرکاری اسکول میں تعینات استاد خالد حسین کے خلاف اہم شواہد سامنے آئے ہیں۔ پولیس کا الزام ہے کہ کمسن بچی کے ساتھ مبینہ طور پر بار بار جنسی زیادتی کی گئی، جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہوگئی۔ مزید الزام ہے کہ خالد حسین نے اپنے بھائی طارق حسین کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر حمل ختم کرنے کے لیے ادویات فراہم کیں۔

پولیس نے بتایا کہ طبی علاج کے دوران بچی کو پہلے پی ایچ سی چھاترو اور بعد میں ضلع اسپتال کشتواڑ منتقل کیا گیا، جہاں اس کا علاج اور الٹراساؤنڈ کیا گیا۔ پولیس کے مطابق ضلع اسپتال میں کام کرنے والا ڈیلی ویجر/صفائی ملازم فاروق احمد بھی مبینہ سازش میں شامل تھا۔تازہ کارروائی کے دوران پولیس نے فاروق احمد ولد ثناء اللہ، سکنہ سنگرام بھاٹہ کشتواڑ، محمد اسحاق ولد محمد خضر اور ریاض احمد ولد غلام محمد شیخ سکنہ شیخ پورہ، گورینال، کو گرفتار کیا ہے۔

پولیس کے مطابق کیس میں اب تک مجموعی طور پر پانچ افراد گرفتار ہوچکے ہیں۔ مزید گرفتاریوں کا فیصلہ تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ایس آئی ٹی کمسن بچی کی موت کے حالات، جنسی زیادتی کے الزامات، حمل، طبی علاج اور مبینہ مجرمانہ سازش سمیت معاملے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کر رہی ہے۔ایس ایس پی نریش سنگھ نے کہا کہ تحقیقات منصفانہ، غیر جانب دارانہ اور شواہد کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں اور جو بھی شخص جرم میں ملوث پایا گیا، اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande