
کشتواڑ 15 سالہ قبائلی لڑکی کی مبینہ عصمت دری اور موت کے خلاف مکمل بند رہا
جموں، 27 اگست (ہ س)۔ کشتواڑ ضلع میں 15 سالہ قبائلی لڑکی کی مبینہ عصمت دری اور موت کے خلاف جمعرات کو مکمل بند رہا۔ مجلسِ شوریٰ اور سناتن دھرم سبھا کی مشترکہ اپیل پر ضلع بھر میں دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے، جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی متاثر رہی۔ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کشتواڑ اور چھاترو سمیت مختلف علاقوں میں پولیس اور سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ بند کے دوران لوگوں نے متاثرہ لڑکی کے لیے انصاف اور واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
پولیس کے مطابق کمسن لڑکی کو مبینہ طور پر کئی ماہ تک اس کے اسکول کے ایک استاد نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہوگئی۔ بعد ازاں چھاترو علاقے میں مبینہ طور پر حمل ختم کرنے کی کوشش کے دوران اس کی موت ہوگئی۔ پولیس نے 20 اگست کو اندروال کے مڈل اسکول بملپورہ میں انچارج ہیڈ ماسٹر گریڈ-ٹو ٹیچرخالد احمد شیخ اور اس کے بھائی کو گرفتار کیا تھا۔ اس معاملے میں اب تک پانچ افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔
پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا کی عصمت دری اور حمل ساقط کرنے کے دوران موت سے متعلق دفعات کے علاوہ بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ (پوکسو) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
معاملے کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل ایس پی کشتواڑ پردیپ سنگھ کی سربراہی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ ٹیم میں ڈی ایس پی نتیش شرما، چھاترو تھانہ کے ایس ایچ او انسپکٹر رشی کمار اور دیگر افسران شامل ہیں۔پولیس کے مطابق تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزم استاد نے مبینہ طور پر اپنے بھائی کی مدد سے لڑکی کا حمل ختم کرنے کے لیے ادویات فراہم کیں۔ لڑکی کو پہلے چھاترو کے پرائمری ہیلتھ سینٹر اور بعد میں ضلع اسپتال کشتواڑ منتقل کیا گیا، جہاں سے اسے مزید علاج کے لیے دوسرے طبی مرکز ریفر کیا گیا۔
پولیس کے مطابق وہاں آپریشن کے ذریعے زچگی کرانے کی مبینہ کوشش کے دوران لڑکی نے مردہ بچے کو جنم دیا، جس کے بعد اس کی موت ہوگئی۔بعد ازاں یس آئی ٹی نے مزید تین افراد کو گرفتار کیا، جن میں محکمہ صحت کا ایک ڈیلی ویجر بھی شامل ہے۔ پولیس کے مطابق ان افراد پر مبینہ طور پر واقعے کو چھپانے اور حمل ختم کرنے کی کوشش میں کردار ادا کرنے کا الزام ہے۔
پولیس نے کہا ہے کہ تحقیقات کے دوران شواہد سامنے آنے کی صورت میں مزید گرفتاریاں بھی کی جائیں گی۔ واقعے کے خلاف اس سے قبل بھی کشتواڑ میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر