
جموں, 27 اگست (ہ س)۔ فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) نے ایک وائرل ویڈیو میں مبینہ طور پر بھارت مخالف بیانات دینے والی خاتون کے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ خاتون کو ایف سی آئی کی ملازمہ بتایا جا رہا ہے۔ایف سی آئی کے جنرل منیجر آئی کے چودھری نے کہا کہ کارپوریشن نے معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور فی الحال یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون ایف سی آئی کی ملازمہ ہے یا نہیں اور ویڈیو میں سنائی دینے والی آواز اسی کی ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر تحقیقات میں خاتون کے ایف سی آئی ملازم ہونے اور ویڈیو میں دیے گئے بیانات کی تصدیق ہوتی ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ خاتون کو شوکاز نوٹس جاری کرکے اس سے وضاحت طلب کی جائے گی، جس کے بعد مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔وائرل ویڈیو میں خاتون مبینہ طور پر یہ کہتے ہوئے سنی جا سکتی ہے کہ کشمیر پر بھارت کا قبضہ ناانصافی ہے اور یہ ناانصافی برقرار رہے گی۔وہ مبینہ طور پر یہ بھی کہتی ہے کہ سرکاری ملازمت حاصل کرنے سے کسی شخص کا اپنا موقف تبدیل نہیں ہوتا۔
خاتون نے ویڈیو میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران کشمیر میں ہونے والی ہلاکتوں کا بھی حوالہ دیا ہے۔ اس مبینہ ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے۔
ایف سی آئی حکام نے تاہم واضح کیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے سے قبل ویڈیو میں موجود خاتون کی شناخت یا آواز کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ ویڈیو کی صداقت اور خاتون کی شناخت کی آزادانہ طور پر تصدیق بھی نہیں ہو سکی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر