
حیدرآباد ،25 اگست (ہ س)۔
نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی(این ڈی ایس اے) نے واضح کیا ہے کہ کالیشورم لفٹ اریگیشن پروجیکٹ میں پانی بھرنے یا پانی کو نچلے علاقوں کی طرف چھوڑنے کا فیصلہ تلنگانہ حکومت کے دائرہ اختیارمیں ہے۔ این ڈی ایس اے نےکہاکہ اس معاملے میں اسے موردِ الزام ٹھہرانادرست نہیں ہے۔
یہ وضاحت ایڈوکیٹ شرت کی جانب سے تلنگانہ ہائی کورٹ میں دائر کردہ مفادِ عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) کے جواب میں سامنے آئی۔عرضی میں تلنگانہ حکومت کی جانب سے یہ کہاجانے پرجواب طلب کیا گیا تھا کہ کالیشورم پروجیکٹ کے میڈی گڈہ بیراج کا ایک ستون دھنس جانے کی وجہ سے وہاں سے پانی اٹھانا ممکن نہیں ہے۔
این ڈی ایس اے نے اپنے جواب میں مبینہ طورپرواضح کیاکہ اس نے میڈی گڈہ بیراج میں پانی بھرنے سے متعلق کوئی ایسی ہدایت جاری نہیں کی ہے کہ وہاں پانی نہ بھرا جائے۔ اتھارٹی کے مطابق، اس نوعیت کے پالیسی فیصلے ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہیں۔
این ڈی ایس اے نے کہا کہ ریاست میں ماہر انجینئروں اور تکنیکی ماہرین کی موجودگی میں یہ فیصلہ تلنگانہ حکومت کو کرنا ہے کہ کالیشورم پروجیکٹ میں پانی بھرا جائے، پانی اٹھایا جائے یااسے نچلی سمت چھوڑاجائے۔
دریں اثنا، کالیشورم پروجیکٹ کی موجودہ صورتحال سے متعلق تکنیکی جائزوں کا بھی حوالہ دیا گیا۔این ڈی ایس اے کے مطابق،حال ہی میں سونڈیلا بیراجوں کو بہترین حالت میں قراردیا گیا ہے۔
مرکزی ادارے سی ڈبلیوپی آرایس کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی ہے کہ میڈی گڈہ کے بلاک نمبر7 کے چھ ستونوں کے علاوہ باقی سات بلاکس میں معیارسے متعلق کوئی مسئلہ نہیں پایاگیا۔
این ڈی ایس اے کی اس وضاحت کے بعد کالیشورم پروجیکٹ کے آپریشن، پانی بھرنے اور اس کی ذمہ داری سے متعلق سیاسی بحث مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے۔
۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق